Return to the talk Return to talk

Transcript

Select language

Translated by nazar hussain
Reviewed by Azeema Batool

0:11 مجھے یاد ھے وہ دن جب میں گیارہ سال کی تھی اور ایک صبح گھر میں کسی خوشی کے مناے جانے کی آواز سے میری آنکھ کھلی۔ میرے والد اپنے سلیٹی رنگ کے چھوٹے سے ریڈیو پر۔ بی بی سی کی خبریں سن رہے تھے وہ بہت مسکرا رہے تھے جو کہ بہت غیر معمولی تھا۔ کیونکہ خبرین انہیں ہمیشہ پریشان کر دیا کرتی تھیں

0:31 "طالبان چلے گؑے ہیں" میرے والد چلاےؑ ۔

0:36 مجھے انکی بات کا مطلب معلوم نہیں تھا ۔ مگر میں دیکھ سکتی تھی کہ میرے والد بہت ہی زیادہ خوش تھے

0:44 "تم اب ایک با قاعدہ سکول جا سکتی ہو"، انہوں نے بتایا۔

0:52 وہ صبح میں کبھی نہیں بھول سکتی- ایک باقاعدہ سکول۔ آپ دیکھیے کہ میں چھ سال کی تھی جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا ۔ اور لڑکیوں کا سکول جانا غیر قانونی قرار دے دیا اس لیے، اگلے پانچ سالوں تک، مجھے لڑکوں کا لباس پہن کر اپنی بڑی بہن کو ایک خفیا اسکول تک لے کر جانا پڑتا، کیونکہ اس کا اکیلے گھر سے باہر رہنا منع کر دیا گیا تھا۔ بس اسی ایک طریقے سے ہم تعلیم حاصل کر سکتے تھے۔ ہر روز، ہم مختلف راستے سے جایا کرتے تا کہ کسی کو یہ شک نا گزرے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ہم اپنی کتابوں کو سبزی والے تھیلوں میں چھپاتے تاکہ ایسا لگے کہ ہم خریداری کے لیے باہر نکلے ہیں سکول ایک مکان میں تھا جس کے ایک کمرے میں ہم سو سے زیادہ لوگ اپنی جگہ بنا تے تھے سردیوں میں وہ جگہ بہت گرم اور آرام دہ ہوا کرتی تھی مگر گرمیوں میں بہت زیادہ گرمی ہوتی تھی ستاد، طلبہ اور ہمارے والدین؛ ہم سب کو معلوم تھا کہ ہم اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ بعض اوقات، طالبان کو شک ہو جانے کی وجہ سے، سکول کو ایک ہفتے کے لیےؑ بند کرنا پڑتا۔ ہم اکثر سوچا کرتے تھے کہ وہ ہمارے بارے میں کیا جان گیےؑ ہیں۔ کیا ہمارا پیچھا کیا جا رہا ہے؟ کیا انہیں ہماری رہایؑش کا معلوم ہے؟ ہم خوفزدہ تھے، لیکن پھر بھی، ہم سکول جانا چاہتے تھے۔

2:26 میں خوش قسمت ہوں کہ ایسے گھر میں پیدا ہوی جہاں تعلیم کی قدر کی جاتی تھی اور بیٹیوں کو انعام سمجھا جاتا تھا۔ میرے نانا اپنے زمانے کے بہت غیر معمولی آدمی تھے۔ افغانستان کے ایک دور دراز صوبے کا ایک روایت شکن آدمی مگر اپنی بیٹی، میری ماں، کو سکول بھیجنے پر اصرار کرنے کی وجہ سے ان کے والد نے انہیں آق کر دیا۔ لیکن میری پڑھی لکھی ماں استانی بن گیؑں۔ وہ ھے میری ماں وہ دو سال پہلے ہی نوکری سے ریٹایؑر ہویں اور اپنے گھر میں ہی ہمارے محلے کی بچیوں اور خواتین کے لیے سکول کھول لیا۔ اور میرے والد--جو کہ یہ ہیں-- اپنے خاندان کے سب سے پہلے فرد تھے جس نے تعلیم حاصل کی۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ان کے بچے، حتٰی کہ بیٹیاں بھی، طالبان اور ان کے دھمکیوں کے باوجود، تعلیم نا حاصل کرتے۔ ان کے نزدیک، اپنے بچوں کو تعلیم نا دینا، اس سے بڑا خطرہ تھا۔ طالبان کی حکومت کے دنوں میں، مجھے یاد ہے، کچھ ایسے لمحات بھی آے میری زندگی میں جب میں ہماری زندگیوں اور ہمیشہ کے ڈر، اور غیر واضع مستقبل سے عاجز آ جاتی۔ ، میں ہار ماننا چاہتی لیکن میرے والد صاحب مجھ سے کہتے تھے بیٹی میری بات غور سے سنو" تم اپنی زندگی کا سارا سرمایا کھو سکتی ہو، تمہارے پیسے چوری ہو سکتے ہیں، تمہیں جنگ کے دوران اپنا گھر چھوڑے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک چیز جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی وہ یہ(تعلیم) ہے، ، اور اگر ہمیں اپنا خون بیچ کر بھی تمہاری فیس اد کرنی پڑی تو ھم یہ بھی کریں گے تو، اب بھی تم پڑہایؑی چھوڑنا چاہتی ہو؟"

4:30 آج جب کہ میں باییس برس کی ھو چکی ھوں میں نے ایک ایسے ملک میں پرورش پایؑی جسے دہایوں پر محیط جنگ نے تباہ کر دیا۔ میری ہم عمر لڑکیوں میں سے صرف چھ فیصد نے ہایی سکول کے بعد تک تعلیم حاصل کی اور اگر میرےخاندان میں تعلیم حاصل کرنے کا عزم نا ہوتا، تو میں بھی باقی ۹۴ فیصد کا حصہ ہوتی۔ اس سارے کی جگہ، آج میں آپکے سامنے مڈلبری کالج کی گریجویٹ کی حیثیت سے کھڑی ھوں

4:55 (تالیاں )

5:05 جب میں افغانستان واپس پہنچی تو میرے نانا، جنہیں اپنی بچیوں کو پڑہانے کی وجہ سے آق کر دیا گیا تھا، مجھے مبارک باد دینے والوں میں سرفہرست تھے۔ وہ نہ صرف میری کالج کی تعلیم کے بارے میں بہت فخر سے بتاتے ھیں بلکہ یہ بھی کہ میں وہ پہلی عورت ہوں، اور یہ بھی کہ میں ایک پہلی خاتون ھوں جس نے انہیں، کابل کی گلیوں کی سیر کروائی۔

5:26 (تالیاں )

5:32 میرا خاندان مجھ پر اعتماد رکھتا ہے۔ میں بڑے بڑے خواب دیکھتی ہوں، مگر میرا خاندان میرے لیے اس سے بھی بڑے خواب دیکھتا ہے۔ اسی لیے میں 10x10 کی عالمی سفیر ہوں، جو کہ خواتین کو تعلیم یافتہ کرنے کی عالمی مہم ہے۔ اسی لیے میں نے SOLA کی بنیاد رکھی، جو کہ افغانستان میں لڑکیوں کے لیے پہلا، اور غالباََ اکیلا بورڈنگ سکول ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لڑکیوں کا سکول جانا، ابھی تک خطرے سے خالی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے اپنے اسکول میں طالب علموں کو کامیابی کے جنون کے ساتھ مواقع تلاش کرتے دیکھا ہے اور میں ان کے والدین کو دیکھتی ہوں جو، میرے والدین کی طرح، ، خطرناک مخالفت کے باوجود ان کی ہمایت کرتے ہیں۔

6:25 احمد کی طرح، یہ اسکا اصلی نام نہیں ھے اور میں آپکو اسکی تصویر بھی نہیں دکھا سکتی مگر وہ میری ایک شاگرد کا والد ہے۔ ایک ماہ پہلے، وہ اور انکی بیٹی سولا - (ہمارے بورڈنگ سکول) سے واپس اپنے گاوں جا رہے تھے دو منٹ کی تاخیر کے باعث،سڑک پر پھٹنے والے بم کی وجہ سے ہلاک ہونے سے بچے۔ جب وہ گھر پہنچے تو انکا فون بجا ایک آواز نے انکو دھمکی دی کہ اگر اپنی بچی کو سکول بحیجا تو وہ انکو دوبارہ قنل کرنے کی کوشش کریں گے

7:04 "اگر تم یہی چاہتے ہو تو مجھے ابھی قتل کر دو" اس نے کہا۔ "لیکن میں اپنی بیٹے کا مستقبل تمہارے ۔ پرانے اور دقیانوسی خیالات کی وجہ سے تباہ نہیں کرونگا"

7:17 افغانستا ن کے متعلق میری راے یہ ھے کہ عام طور پر اس کو مغرب میں اہمیت نہیں دی جاتی ھم لڑکیوں میں سے جو اکثر کامیاب ہوتی ھیں انکے پیچھے ایسے باپ کا ہاتھ ہے جو اپنی بیٹیوں کی قدر کرتے ہیں اور ان کی کامیابی میں ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہماری ماوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں، بلکہ وہ تو اکثر اپنی بیٹیوں کے روشن مستقبل کیلیے قایؑل کرنے میں پہل کرتی ہی، لیکن افغانستان جیسے معاشرے کے تناظر میں، ہمارے پاس مردوں کی ہمایت ہونا لازمی ہے۔ طالبان کی حکومت میں، سکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی-- یاد رہے کہ اس وقت یہ غیر قانونی تھا۔ لیکن آج، افغانستان میں تیس لاکھ سے زیادہ لڑکیاں سکول جاتی ہیں۔

8:10 (تالیاں )

8:17 امریکہ سے افغانستان بہت مختلف نظر آتا ھے میں دیکھتی ہوں کہ امریکی ان تبدیلیوں کو بہت نازک سمجھتے ہیں. مجھے ڈر ہے کہ امریکی فوج کی واپسی کے بعد یہ تبدیلیاں باقی نہیں رہینگی۔ لیکن جب میں افغانستان واپس جاتی ہوں، اور جب میں وہاں طالبات کو دیکھتی ھوں اور ان کے والدین کو جو انکی حمایت کرتے ہیں، ان کا حصلہ بڑہاتے ہیں، تو مجھے ایک روشن مستقبل اورپایؑدار تبدیلی نظر آتی ہے۔ میرے لیے افغانستان امید اور با حد ممکنات سے بھرا ہوا ملک ہے۔ اور SOLA کی لڑکیاں مجھے ہر روز اس بات کی یاددہانی کرواتی ہیں۔ میری طرح یہ لڑکیاں بھی بڑے بڑے خواب دیکھتی ھیں

9:13 آپکا بہت بہت شکریہ

9:15 (تالیاں )