اگر آپ آج یہاں موجود ہیں ۔۔ تو میں بہت خوش ہوں کہ آپ یہاں ہیں ۔۔ آپ سب نے یہ سنا ہوگا کہ پائیدار ترقی کیسے ہمیں اپنے آپ سے محفوظ رکھے گی۔ تاہم، جب ہم TED پر نہیں تھے، تو ہمیں اکثر بتایا گیا کہ حقیقی پائیدار پالیسی کا ایجنڈا، خاص طور پر، بڑے شہری علاقوں جیسا کہ نیو یارک شہر میں قابلِ عمل نہیں ہے۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ سرکاری اور نجی شعبے دونوں میں، فیصلہ سازی کے اختیارات رکھنے والے بیشتر لوگوں کو خطرات میں گھرے ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔
میری آج یہاں آمد کی ایک وجہ ایک کتے کے باعث ہے: ایک لاوارث کتے کا پلا جو مجھے 1998 میں بارش میں بھیگتا ملا۔ وہ کتیا بعد میں میری توقع کے خلاف کافی بڑی جسامت کی ہوگئی۔ جب وہ میری زندگی میں داخل ہوئی تو اس وقت ہم ایسٹ ریور کے گھاٹ پر کوڑا پھینکنے کی ایک بڑی مجوزہ سہولت گاہ کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے کیونکہ نیویارک شہر کا ہمارا چھوٹا سا حصہ پہلے ہی شہر بھر کے 40 فیصد سے زائد تجارتی فضلے کو ٹھکانے لگاتا تھا۔ گندگی کی صفائی کے بعد گولیاں بنانے کا ایک پلانٹ، ایک تلچھٹ صاف کرنے والا پلانٹ، چار بجلی گھر خوراک تقسیم کرنے کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز، اور اس کے علاوہ دیگر صنعتیں جن کے باعث علاقے میں ہر ہفتے 60,000 بار ڈیزل ٹرکوں کی آمدورفت جاری رہتی تھی۔ اس علاقے میں شہر میں لوگوں کے لئے پارکوں کا تناسب بھی سب سے کم ہے۔
چنانچہ، جب محکمہ پارک نے گھاٹ کے لئے منصوبے تیار کرنے کی غرض سے سیڈ گرانٹ منصوبے کے تحت مجھے 10,000$ دینے کے لئے رابطہ کیا تو میں نے سوچا کہ انہوں نے یہ اچھی نیت سے کیا ہے، لیکن میری سوچ سادگی پر مبنی تھی۔ میں تمام عمر اس علاقے میں رہی تھی لیکن مذکورہ بالا خوبصورت سہولیات کے باعث دریا کی طرف جانے سے قاصر تھی۔ چنانچہ، ایک صبح جب میں اپنی کتیا کے ہمراہ جاگنگ کر رہی تھی تو اس نے دانتوں سے میری پتلون کو کھینچ کر میری توجہ ایک جانب دلائی جو میرے نزدیک غیر قانونی کوڑا پھینکنے کی ایک اور جگہ تھی۔ وہاں، جھاڑ جھنکار اور گندگی کے ڈھیر تھے اور کچھ اور بھی چیزیں تھی جن کا میں یہاں تذکرہ نہیں کرنا چاہتی، لیکن وہ مجھے گھسیٹتی رہی ۔۔ اور دیکھو اور یاد رکھو، اس گند کے کنارے دریا تھا۔ مجھے علم تھا کہ گلی کے اس متروک کنارے، جسے مجھے یہاں لانے والی کتیا کی طرح لاوارث چھوڑا گیا تھا، کو بچانا ضروری ہے۔ اور مجھے علم تھا کہ یہ عمل کمیونٹی کی زیرِ قیادت نیو ساؤتھ برونکس کی بحالی نو کا فخریہ آغاز بن جائے گا۔
اور میری نئی کتیا کی طرح، یہ خیال میرے تصور سے بھی زیادہ بڑا ہوگیا۔ ہمارے اس مقصد کی کافی حمایت کی گئی۔ اور ہنٹس پوائنٹ ریور سائیڈ پارک گھاٹ کا وہ پہلا پارک بن گیا جو ساؤتھ برونکس میں 60 سال سے بھی پہلے ہوا کرتا تھا۔ ہم نے 10,000$ کی اس سیڈ گرانٹ رقم کو 300 گنا بڑھا کر 3$ ملین کا پارک بنا دیا۔
اور موسمِ خزاں کے دوران، میں درحقیقت اپنے محبوب سے شادی کرلوں گی۔ آپ سب کا بہت شکریہ (تالیاں)۔ یہ وہی ہے جو پیچھے سے میرے بٹن چلاتا رہتا ہے، یہ کام وہ ہر وقت کرتا ہے۔ (قہقہے)۔ (تالیاں)۔
لیکن ہم جو ماحولیاتی انصاف کی کمیونٹیوں میں رہائش پذیر ہیں وہ کوئلے کی کان میں کینیری کی مانند ہیں۔ اب ہمیں مسائل کا احساس ہو رہا ہے جو کچھ عرصے سے درپیش ہیں۔ آپ میں سے وہ جو اس اصطلاح سے ناواقف ہیں ان کے لئے ماحولیاتی انصاف کچھ یوں ہے: کسی بھی کمیونٹی پر کسی دوسرے کی نسبت مزید ماحولیاتی بوجھ نہ ڈالا جائے اور نہ ہی اسے کم ماحولیاتی فوائد حاصل ہوں۔
بدقسمتی سے، نسل اور طبقہ اس لحاظ سے انتہائی قابلِ اعتماد اشاریے ہیں کہ کوئی شخص اچھی جگہیں، جیسا کہ پارک اور درخت کہاں تلاش کر سکتا ہے اور کوئی شخص بری جگہیں جیسا کہ بجلی گھر اور گندگی پھینکنے کی جگہیں کہاں تلاش کر سکتا ہے۔ امریکا میں ایک سیاہ فام کی حیثیت سے، میرا کسی سفید فام شخص کے مقابلے میں کسی ایسی جگہ رہنے کا امکان دگنا ہے جہاں فضائی آلودگی میری صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہو۔ میرا کسی بجلی گھر یا کیمیائی سہولت گاہ سے چند قدم کے فاصلے پر رہنے کا امکان پانچ گنا زیادہ ہے ۔۔ اور اس وقت بھی میری یہی صورت حال ہے۔ زمین کے استعمال کے ان فیصلوں نے ایسے معاندانہ حالات پیدا کر دیے ہیں جن کے نتیجے میں موٹاپا، ذیابیطس اور دمہ جیسے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ آخر کوئی شخص زہریلے علاقے میں تیز چہل قدمی کرنے کے لئے گھر سے باہر قدم کیوں نکالے گا؟ ہم میں موٹاپے کی 27 فیصد شرح کافی زیادہ ہے، اس ملک میں بھی، اور اس کے باعث ذیابیطس بھی ہوجاتی ہے۔ ساؤتھ برونکس کے ہر چار میں سے ایک بچے کو دمہ کا مرض ہے۔ ہماری یہاں دمہ کی شرح قومی اوسط سطح سے سات گنا زیادہ ہے۔ یہ اثرات ہر کسی کے راستے میں حائل ہیں۔ اور ہم سب کو ٹھوس فضلے کے اخراجات، آلودگی سے وابستہ صحت کے مسائل کے لئے کافی زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور اس سے زیادہ قابل نفریں چیز ہمارے نوجوان سیاہ فام اور لاطینی افراد کے جیل جانے کی قیمت ہے جن میں بے شمار ایسی صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں جنہیں استعمال میں نہیں لایا گیا۔ ہمارے 50 فیصد سے زائد باشندے خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہم میں سے 25 فیصد بےروزگار ہیں۔ کم آمدنی والے شہری اکثر صحت کی بنیادی دیکھ بھال کے طور پر ہنگامی کمروں کا رخ کرتے ہیں۔ ٹیکس دہندگان کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے اور اس کے کوئی متناسب فوائد بھی نہیں ہوتے۔ غریب لوگ نہ صرف تاحال غریب ہیں بلکہ وہ تاحال بیمار بھی ہیں۔
خوش قسمتی سے، میری طرح کئی لوگ ان مسائل کا حل نکالنے کی جدوجہد کررہے ہیں اور وہ مختصر مدت میں مختلف رنگتوں کی کم آمدنی والی کمیونٹیوں کی زندگیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور نہ ہی طویل مدت میں ہم سب کو تباہی کی جانب دھکیلیں گے۔ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا، یہ چیز ہم سب میں مشترک ہے۔ چنانچہ اس کے علاوہ ہم میں کیا مشترک ہے؟
سب سے پہلے تو ہم ناقابل یقین حد تک دلکش ہیں ۔۔۔ (قہقہے) ۔۔ ہائی اسکول، کالج کے فارغ التحصیل، پوسٹ گریجویٹ ڈگریوں کے حامل، ہم نے دنیا کے دلچسپ مقامات کی سیر کی ہوئی ہے، نوعمری میں ہمیں بچوں کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑا، مالی طور پر مستحکم ہیں، کبھی بھی جیل نہیں گئے۔ ٹھیک۔ اچھا۔ (قہقہے)۔
لیکن ایک سیاہ فام عورت ہونے کے علاوہ بھی میں کئی لحاظ سے آپ میں سے بیشتر لوگوں سے مختلف ہوں۔ میں نے اپنے مقامی علاقے میں لوگوں کو تقریباً نصف عمارتوں کو جلاتے ہوئے دیکھا۔ میرے بڑے بھائی لینی نے ویت نام کی جنگ لڑی، اور وہ اپنے گھر سے محض چند بلاک کے فاصلے پر گولی کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگیا۔ مسیح۔ میں نے سڑک کے پار ایک ایسے گھرانے میں پرورش پائی جہاں کوکین فروخت کی جاتی تھی۔ ہاں، میں غریب بستی سے تعلق رکھنے والی ایک سیاہ فام لڑکی ہوں۔ ان چیزوں کی بنا پر میں آپ سے مختلف ہوں۔ لیکن جو چیزیں ہمارے درمیان مشترک ہیں وہی مجھے اپنی کمیونٹی کے بیشتر لوگوں سے ممتاز کرتی ہیں، اور میں ان دو دنیاؤں کے درمیان چل رہی ہوں، جس میں دوسرے میں انصاف کے لئے میرا دل کافی ہے۔
تو ہمارے لئے چیزیں اتنی مختلف کیسے ہو سکتی ہیں؟ 40 کی دہائی کے آخری سالوں میں، پل مین پر بطورِ قلی کام کرنے والے میرے باپ، ایک غلام کا بیٹا، ۔۔ نے ساؤتھ برونکس کے ہنٹس پوائنٹ حصے میں ایک گھر خریدا، اور چند سالوں بعد اس نے میری ماں سے شادی کرلی۔ اس وقت، کمیونٹی بیشتر سفید فام، محنت کشوں کے علاقے پر مشتمل تھی۔ میرا باپ تنہا نہیں تھا۔ اور اسی قبیل کے دوسرے لوگوں نے امریکی خواب کی اپنی شکل کی جستجو جاری رکھی، ساؤتھ برونکس اور ملک کے کئی دیگر شہروں سے سفید فام آبادی کا انخلا معمول بن گیا۔ بینکوں کی جانب سے سرخ لکیر استعمال کی جاتی تھی جس میں ہمارے علاقے سمیت شہر کے بعض حصوں کو کسی قسم کی سرمایہ کاری سے محروم رکھا جاتا تھا۔ بہت سے مالکانِ مکان کا یہ خیال تھا کہ اپنی عمارتوں کو آگ لگا کر انشورنس کی رقم حاصل کرنا انہیں ایسی شرائط کے تحت فروخت کرنے سے زیادہ منافع بخش کام تھا ۔۔ چاہے سابقہ کرایہ دار زخمی ہوتے ہوں یا مر جائیں۔
ہنٹس پوائنٹ ماضی میں ایسی کمیونٹی تھا جہاں کے لوگ کام پر پیدل چل کر جایا کرتے تھے، لیکن اب رہائشیوں کے پاس نہ کام تھا نہ گھر جہاں پیدل چل کر جائیں۔ قومی سطح پر شاہراہوں کی تعمیر کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھی ہمارے مسائل میں اضافہ کیا۔ ریاست نیویارک میں، رابرٹ موسز شاہراہوں کی توسیعی مہم کے روح رواں تھے۔ اس مہم کا ایک بنیادی مقصد ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی کی دولت مند کمیونٹیوں کے باشندوں کے لئے مین ہٹن تک رسائی کو آسان بنانا تھا۔ وسط میں آنے والے ساؤتھ برونکس کو کوئی موقع نہ ملا۔ رہائشیوں کو ان کی عمارتیں مسمار کرنے سے قبل ایک ماہ سے بھی کم عرصے کا نوٹس دیا جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 600,000 لوگ بے گھر ہوگئے۔ عام تاثر یہ تھا کہ ساؤتھ برونکس سے تعلق رکھنے والے لوگ صرف دلال، طوائفیں اور منشیات فروش تھے۔ اور اگر آپ کو ابتدائی دنوں سے ہی یہ بتا دیا جائے کہ آپ کی کمیونٹی میں کوئی اچھا کام نہیں ہو سکتا تو یہ چیز بری اور بدنما ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کا آپ کی ذات پر اثر نہ پڑے؟ لہٰذا، میرے گھرانے کی املاک اب بے وقعت تھی، ماسوائے اس کے کہ یہ ہمارا گھر اور سب اثاثہ تھا۔ اور میری یہ خوش قسمتی رہی کہ گھر اور اس میں موجود محبت کے ساتھ ساتھ اساتذہ، اتالیقوں اور دوستوں کا ساتھ کافی رہا۔
اب، یہ کہانی کیوں اہم ہے؟ کیونکہ منصوبہ بندی کے نقطہ نظر سے، اقتصادی تنزلی ماحولیاتی تنزلی کا باعث بنتی ہے جس کا نتیجہ سماجی تنزلی ہے۔ 1960 کی دہائی میں سرمایہ کاری نکالنے سے مستقبل کی تمام ماحولیاتی نا انصافیوں کی داغ بیل پڑی۔ میرے علاقے میں آلودگی پیدا کرنے والی سہولیات کا قیام جاری رکھنے کے لئے آج بھی پرانی طرز کی علاقہ بندی اور زمین کے استعمال کے ضوابط سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ کیا زمین کے استعمال کی پالیسی کا تعین کرتے وقت ان عوامل کو مدِنظر رکھا جاتا ہے؟ ان فیصلوں کے ساتھ کیا اخراجات وابستہ ہیں؟ اور انہیں کون ادا کرتا ہے؟ فائدہ کس کو ہے؟ مقامی کمیونٹی کو کس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے، کیا کوئی اس کا جواز پیش کر سکتا ہے؟ یہ "منصوبہ بندی" ۔۔ واوین میں ۔۔ تھی جس نے کبھی ہمارے بہترین مفادات کو ذہن میں نہیں رکھا۔
جب ایک بار ہمیں اس کا احساس ہوگیا، تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اپنی منصوبہ بندی کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ وہ چھوٹا پارک جس کے متعلق میں نے آپ سے پہلے ذکر کیا وہ ساؤتھ برونکس میں ایک سبز تحریک کو فروغ دینے کا پہلا مرحلہ تھا۔ میں نے ایک اعشاریہ پچیس ملین ڈالر کی وفاقی آمدورفت گرانٹ کو گھاٹ کے ساتھ ایک سیر گاہ کی تخلیق کے لئے لکھا جہاں سڑک پر سائیکلیں چلانے کے لئے وقف راستے بنے ہوں۔ ظاہری اصلاحات ٹریفک کی حفاظت، فضلہ ٹھکانے لگانے اور دیگر سہولیات، کے متعلق سرکاری پالیسی کو مطلع کرنے میں مدد دیتی ہیں جنہیں اگر موزوں طریقے سے سر انجام دیا جائے تو ان سے کمیونٹی کے معیارِ زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ مقامی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ جسمانی چستی کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ سائیکلوں کی دکانوں، جوس کے مراکز کے متعلق سوچیں۔ ہم نے پہلے مرحلے کے منصوبوں کی تیاری کے لئے 20$ ملین ڈالر کا بندوبست کیا۔ یہ لافئیٹ ایونیو ہے اور اس کا نمونہ میتھیوز نیلسن قدرتی مناظر کے ماہرینِ تعمیرات نے تیار کیا ہے۔ ایک بار جب یہ راستہ تعمیر ہوگیا تو یہ ساؤتھ برونکس کو رانڈل آئی لینڈ پارک کے 400 ایکڑ سے زائد رقبے سے ملا دے گا۔ اس وقت تقریباً 25 فٹ پانی نے ہمیں جدا کر رکھا ہے لیکن یہ رابطہ اسے تبدیل کر دے گا۔
چونکہ ہم قدرتی ماحول کو پروان چڑھا رہے ہیں، اس کی کثرت ہمیں اس سے زیادہ لوٹائے گی۔ ہم برونکس ماحولیاتی انتظام کی تربیت نامی ایک منصوبہ چلا رہے ہیں جو ماحولیاتی بحالی کے شعبوں میں ملازمت کی تربیت فراہم کرتا ہے، تاکہ ہماری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس ان بہتر تنخواہ والی نوکریوں کے لئے مقابلہ جاتی صلاحیتیں موجود ہوں۔ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم علاقے میں ماحولیات کے شعبے میں ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں ۔۔ تاکہ لوگوں کی ماحول میں مالی اور ذاتی دلچسپی دونوں برقرار رہیں۔ شیری ڈن ایکسپریس وے رابرٹ موسز عہد کی باقیات میں سے ہے جس سے مکمل استفادہ نہیں کیا گیا، اس کی تعمیر میں ان مقامی علاقوں کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا تھا جو اس کے باعث تقسیم ہوئے۔ یہاں تک کے بھیڑ کے اوقات میں بھی، اسے حقیقتاً کوئی استعمال نہیں کرتا۔ کمیونٹی نے ایک متبادل آمدورفت کا منصوبہ تیار کیا جس میں شاہراہ کے استعمال کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ہمیں اب یہ موقع ملا ہے کہ تمام دلچسپی رکھنے والے افراد کو جمع کر کے تبادلہ خیال کریں کہ کس طرح 28 ایکڑ پر مبنی اس رقبے کو پارک کی زمین، قابلِ استطاعت گھروں اور مقامی اقتصادی ترقی کے لئے بہتر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ہم نے اپنے دفاتر کے بالائی حصے پر نیویارک شہر کے پہلے سبز اور ٹھنڈے چھت کا نمونہ بھی تعمیر کیا ہے۔ ٹھنڈے چھت وہ انعکاسی سطحیں ہیں جو سورج کی روشنی کو جذب کرکے اسے عمارت یا ماحول کو منتقل نہیں کرتیں۔ سبز چھتیں مٹی اور جاندار پودوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ دونوں کو پٹرولیم پر مبنی چھتوں کے مواد کی بجائے استعمال کیا جا سکتا ہے جو حرارت کو جذب کرتے ہوئے شہری "جزیرہ حرارت" کے اثر میں شامل ہوتی ہیں اور سورج کے نیچے تنزلی کی جانب مائل ہوتی ہے اور ہم اس فضا میں سانس لیتے ہیں۔ سبز چھتیں 75 فیصد بارش کا پانی محفوظ رکھتی ہیں اور اس طرح وہ پانی کی صفائی کے مہنگے حل پر رقم خرچ کرنے کی شہری ضروریات میں کمی لاتی ہیں ۔۔ جو اتفاق سے اکثر ماحولیاتی انصاف کمیونٹیوں میں واقع ہیں مثلاً کانیں۔ اور وہ ہمارے ننھے دوستوں کے لئے مسکن بھی فراہم کرتی ہیں! تو ۔۔ (قہقہے) ۔۔ اچھا ہے نا! بہرحال، مظاہرے کا منصوبہ ہمارے اپنے سبز چھتوں کی تنصیب کے کاروبار کا ایک نقطہ آغاز ہے، جو ساؤتھ برونکس میں ملازمتیں اور پائیدار اقتصادی سرگرمی لائے گا۔ (قہہقے)۔ (تالیاں)۔ مجھے بھی یہ پسند ہے۔
بہرحال، مجھے علم ہے کہ کرس نے ہمیں یہاں اس کی مہم چلانے سے منع کیا تھا، لیکن میں نے چونکہ آپ کی تمام تر توجہ حاصل کرلی ہے، مجھے سرمایہ کاروں کی ضرورت ہے۔ اختتامِ مہم۔ اجازت کی بجائے معافی کا خواستگار ہونا بہتر ہے۔ بہرحال ۔۔ (قہقہے)۔ (تالیاں)۔
اچھا تو کٹرینہ طوفان کی بات ہوجائے۔ کٹرینہ سے قبل، ساؤتھ برونکس اور نیو اورلینز کے نویں حلقے میں بہت سی چیزیں مشترک تھیں۔ دونوں میں زیادہ تر آبادی سیاہ فام غریب لوگوں پر مشتمل تھی، دونوں ثقافتی اختراع کا گڑھ تھے: ہپ ہاپ اور جاز پر غور کریں۔ دونوں گھاٹ کے کنارے آباد کمیونٹیاں ہیں جہاں صنعتیں اور رہائشی ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ کٹرینہ کے بعد کے عہد میں، ابھی تک ہمارے درمیان بہت کچھ مشترک ہے۔ لاپروا منتظم اداروں، مضر علاقہ بندی اور سست حکومتی احتساب کے باعث ہمیں بہترین طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے اور بدترین طور پر بدنامی اور زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نویں حلقے اور ساؤتھ برونکس دونوں میں سے کسی کی تباہی بھی یقینی نہیں تھی۔ لیکن ہم اس بحران سے انتہائی قیمتی سبق سیکھ کر باہر نکلے ہیں کہ اپنی مدد آپ کیسے کی جائے۔ ہم شہری تباہی کی قومی علامات سے کچھ زیادہ ہی ہیں۔ یا پھر آنے جانے والے صدور کی انتخابی مہموں کے دوران کھوکھلے نعروں سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ کیا ہم گلف کوسٹ کےعلاقوں کو ساؤتھ برونکس کی مانند ایک یا دو دہائیوں تک سڑنے دیں؟ یا پھر ہم پیش بینی کے اقدامات اٹھائیں گے اور ملک کے اندر انتہائی زیریں سطح پر کام کرنے والے فعال کارکنوں کے اثاثے سے سیکھیں گے جو میری کمیونٹی جیسے علاقوں میں پائی جانے والی مایوسی کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔
میری بات سنیں، میں افراد، کارپوریشنوں یا حکومت سے توقع نہیں رکھتی کہ وہ دنیا کو صرف اس لئے ایک بہتر جگہ بنائیں گے کیونکہ یہ کام درست یا اخلاقی طور پر جائز ہے۔ آج کا یہ تعارف ان حالات کا ایک مختصر خلاصہ پیش کرتا ہے جس میں سے مجھے گزرنا پڑا ہے یہ بہت تھوڑا ہے۔ آپ اندازہ ہی نہیں لگا سکتے۔ لیکن اگر آپ جاننا چاہیں تو میں بعد میں آپ کو بتا سکتی ہوں۔ لیکن ۔۔ میں جانتی ہوں کہ یہ فیصلہ کن نقطہ یا کسی کے ذہن میں اس کا تاثر ہے، جو لوگوں کی بالآخر حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ میں اس چیز میں دلچسپی رکھتی ہوں جسے میں "تین گنا فیصلہ کن نقطہ" کہتی ہوں جسے پائیدار ترقی پیدا کر سکتی ہے۔ وہ ترقی جس میں تمام متعلقہ افراد کیلئے مثبت فوائد پیدا کرنے کی صلاحیت ہے: مکانات تعمیر کرنے والے، حکومت اور کمیونٹی جہاں ان منصوبوں کو عملی شکل دی جاتی ہے۔ اس وقت، یہ نیویارک شہر میں نہیں ہو رہا۔ اور ہمیں جامع شہری منصوبہ بندی کے خسارے کا سامنا ہے۔ حکومتی رعایتیں ساؤتھ برونکس میں مجوزہ بڑے اسٹوروں اور اسٹیڈیم کی پیشرفت پر دی جا رہی ہیں لیکن بڑھتی ہوئی ٹریفک، آلودگی، ٹھوس فضلوں اور ان کے کھلی جگہوں پر اثرات سے نمٹنے کے لئے شہری اداروں کے درمیان تعاون بہت کم ہے۔ اور مقامی اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ان کے طریقے اتنے بودے ہیں کہ اب ان پر ہنسی بھی نہیں آتی۔ کیونکہ ان سب سے بڑھ کر دنیا کی امیر ترین کھیلوں کی ٹیم دو محبوب کمیونٹی پارکوں کو تباہ کرکے گھر جو رتھ نے تعمیر کیا نامی اسٹیڈیم کو تبدیل کر رہی ہے۔ اب ہمارے پاس ان اعداد و شمار سے بھی کم ہوگا جو میں نے آپ کو پہلے بتایا تھا۔ اور اگرچہ ساؤتھ برونکس کے 25 فیصد سے بھی کم رہائشیوں کے پاس اپنی کاریں ہیں، ان منصوبوں میں ہزاروں پارکنگ کی جگہیں شامل ہیں، جبکہ عوامی ذرائع آمدورفت کی سہولت کے لحاظ سے وہ صفر ہیں۔ اب اس طویل بحث سے جو چیز محروم رہ رہی ہے وہ ہے جامع تجزیہ فوائد لاگت جو غیر صحت مند، ماحولیاتی مسائل کا شکار کمیونٹی کے مقابلے میں عمارتوں، پائیدار تبدیلیوں کو طے کرنا ہے۔ میرا ادارہ ان معاملات پر روشنی ڈالنے کے لئے کولمبیا یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
اب سیدھی بات کرلی جائے۔ میں ترقی کے خلاف نہیں ہوں۔ یہ ہمارا شہر ہے، کوئی تحفظ یافتہ جنگلی علاقہ نہیں۔ اور میں نے اپنے اندر موجود سرمایہ دار کو گلے لگا لیا ہے۔ اور غالباً آپ سب کے اندر بھی یہ ہوگا۔ اگر نہیں ہے تو آپ کو اس کی ضرورت ہے۔ (قہقہے)۔ تو مجھے تعمیر کرنے والوں کی جانب سے رقم کمانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس چیز کی کافی مثالیں موجود ہیں کہ ایک پائیدار، کمیونٹی دوست ترقی میں بھی کافی رقم کمائی جا سکتی ہے۔ TED کے ساتھی بل مک ڈونف اور ایمری لووینز، دونوں میرے لئے ہیرو ہیں، نے یہ دکھایا ہے کہ آپ درحقیقت یوں کر سکتے ہیں۔ میں اس ترقی کو پسند نہیں کرتی جو منافع کمانے کے لئے سیاسی طور پر محروم کمیونٹیوں کا حد سے زیادہ استحصال کرتی ہے۔ اس کا جاری رہنا ہم سب کے لئے باعث شرم ہے، کیونکہ ہم سب اپنے تخلیق شدہ مستقبل کے لئے ذمہ دار ہیں۔ لیکن بڑے امکانات کے لئے میں دیگر شہروں میں موجود صاحبانِ بصیرت سے سیکھنا چاہتی ہوں۔ یہ عالمگیریت کا میرا نقطہ نظر ہے۔
بوگوٹا کو لے لیں۔ غریب، لاطینی، جو مفرور مجرموں کے ہاتھوں بندوق کی خونریزی اور منشیات کی تجارت میں پھنسے ہوئے ہیں: ایک ایسی بدنامی جو ساؤتھ برونکس سے مختلف نہیں ہے۔ لیکن 1990 کی دہائی میں اینرک پینالوسا نامی ایک انتہائی بارسوخ میئر کے باعث شہر میں سکون ہوگیا۔ انہوں نے آبادی کی نسلی تقسیم کا جائزہ لیا۔ بوگوٹا کے چند ایک ہی باشندوں کے پاس کار تھی لیکن شہری وسائل کا بڑا حصہ ان کی خدمت کے لئے وقف کیا گیا۔ اگر آپ کوئی میئر ہیں تو آپ اس کے متعلق کچھ کر سکتے ہیں۔ ان کی انتظامیہ نے شہر کی مرکزی گزر گاہوں کو پانچ لینوں سے کم کرکے تین لینوں کا کر دیا، ان سڑکوں پر پارکنگ خلاف قانون قرار دے دی، پیدل چلنے والوں اور سائیکل چلانے والوں کے راستوں کو توسیع دی، عوامی پلازے قائم کیے، اور ایک انتہائی مؤثر بس کے عوامی سفر کا نظام قائم کیا جس کی دنیا میں مثال ملنی مشکل ہے۔ ان کی شاندار کوششوں پر انہیں تقریباً مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن جب لوگوں نے یہ دیکھنا شروع کیا کہ ان کی روز مرہ زندگیوں کی عکاسی کرنے والے معاملات میں انہیں فوقیت دی جا رہی تھی تو ناقابل یقین واقعات ہونے لگے۔ لوگوں نے کوڑا پھینکنا روک دیا۔ جرائم کی شرح کم ہوگئی۔ کیونکہ سڑکوں پر لوگوں کی رونق تھی۔ ان کی انتظامیہ نے کئی مخصوص شہری مسائل کو ایک ہی بار ہدف بنایا، اور یہ سب انہوں نے تیسری دنیا کے ملک کے بجٹ سے کیا۔ مجھے افسوس ہے لیکن ہمارے پاس اس ملک میں بہانہ بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو پہلے آگے لانے کے ایجنڈے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ان لوگوں کو سزا دی جائے جو کاروں کے مالک ہیں، بلکہ بوگوٹا کے تمام شہریوں کو شہر کی بحالی میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے۔ یہ بات کہ ترقی اکثریتی آبادی کی قربانی پر نہیں ہونی چاہیے، اب بھی امریکا میں ایک انقلابی خیال تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن بوگوٹا کی مثال میں اسے تبدیل کرنے کی طاقت ہے۔
تاہم، آپ کو دولت کی نعمت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ یہاں موجود ہیں اور اسی لئے آپ ان معلومات کی قدر کرتے ہیں جن کا یہاں تبادلہ ہوتا ہے۔ ہر جگہ جامع پائیدار تبدیلی کی حمایت میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ صرف TED پر ہی اس کے متعلق گفتگو نہ کریں۔ یہ ایک ملک گیر پالیسی ایجنڈا ہے جو میں بنانے کی کوشش کر رہی ہوں اور جیسا کہ آپ کو علم ہے سیاست ذاتی ہوتی ہے۔ سبز کو نیا سیاہ بنانے میں میری مدد کریں۔ پائیداری کو سیکسی بنانے میں میری مدد کریں۔ اسے اپنے عشائیوں اور شراب پارٹیوں پر گفتگو کا موضوع بنا لیں۔ ماحولیات اور معاشی انصاف کے لئے لڑنے میں میری مدد کریں۔ عوام، دنیا اور منافع کو سامنے رکھنے والی سرمایہ کاریوں کی مدد کریں۔ پائیداری کو جمہوری طریقے سے بدلنے میں میری مدد کے لئے ہر شخص کو میز پر لا کر اس بات پر اصرار کریں کہ جامع منصوبہ بندی کے مسئلے کو ہر جگہ حل کیا جا سکتا ہے۔ اچھا، شکر ہے کہ میرے پاس مزید کچھ وقت ہے!
سنیں ۔۔ جب ایک دن میں نے ناشتے کے بعد جناب گور سے بات کی تو میں نے ان سے پوچھا کہ ان کی نئی مارکیٹنگ حکمت عملی میں ماحولیاتی انصاف کے سرگرم کارکنوں کو کیسے شامل کیا جائے گا۔ ان کا جواب ایک گرانٹ پروگرام تھا۔ میرا خیال ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آئی کہ میں رقم کا نہیں پوچھ رہی تھی۔ میں تو انہیں پیشکش کر رہی تھی۔ (تالیاں)۔
مجھے اس بات سے دکھ ہوا کہ معلومات کی فراہمی کا غالب طریقہ اب بھی بلائی سطح سے زیریں سطح تک ہے۔ اب مجھے غلط نہ سمجھیں، ہمیں رقم کی ضرورت ہے۔ (قہقہے)۔ فیصلہ سازی کے عمل کے دوران زیریں سطح پر کام کرنے والے گروپوں کی مذاکراتی میز پر ضرورت ہے۔ جناب گور نے ہمیں یاد کروایا کہ ہم 90 فیصد توانائی روز ضائع کرتے ہیں، اس میں ہماری توانائی، ذہانت اور سخت محنت سے حاصل شدہ تجربے کا ضیاع نہیں شمار کیا گیا۔ (تالیاں)۔
میں اتنی دور سے آپ سے اس طرح ملنے آئی ہوں۔ براہِ کرم، مجھے ضائع نہ کریں۔ مل جل کر کام کرتے ہوئے ہم ان چھوٹے، تیزی سے فروغ پاتے افراد کے گروپ بن سکتے ہیں جن میں اس خیال پر ڈھیٹ پن اور جرأت پائی جاتی ہے کہ ہم درحقیقت دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہم اس کانفرنس میں دنیا کے مختلف شعبوں سے آئے ہوں لیکن میری بات کا یقین کریں ہم سب میں ایک ناقابل یقین حد تک مضبوط چیز مشترک ہے ۔۔ ہمارے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے اور ہر چیز حاصل ہی ہوگی۔ خدا حافظ! (تالیاں)
You can share this video by copying this HTML to your clipboard and pasting into your blog or web page. This video will play with subtitles.
You either have JavaScript turned off or have an old version of the Adobe Flash Player. To view this rating widget you
need to get the latest Flash player.
If your browser allows only "trusted sites" to execute Javascript, you should add the "googleapis.com" domain to your whitelist to allow our Flash detection to work properly.
Got an idea, question, or debate inspired by this talk? Start a TED Conversation, or join one of these:
MacArthur سے سرفراز سرگرم کارکن میجر کارٹر ایک جذباتیت سے لبریز گفتگو میں ساؤتھ برونکس میں ماحولیاتی انصاف سے متعلق اپنی جد و جہد کے بارے میں تفصیل سے بتاتی ہیں-- اور دکھاتی ہیں کہ غلط شہری پالیسی سے اقلیتی مضافاتی علاقے کتنی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
Majora Carter redefined the field of environmental equality, starting in the South Bronx at the turn of the century. Now she is leading the local economic development movement across the USA. Full bio »
18:00 Posted: Jan 2008
Views 2,346,567 | Comments 413
20:34 Posted: Oct 2007
Views 240,466 | Comments 57
15:43 Posted: Feb 2008
Views 383,256 | Comments 52
Just follow the guidelines outlined under our Creative Commons license.
This comment will be attributed to . Not ? Sign Out.