جی، یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ اور بڑی خوشی محسوس ہورہی ہے اس تنظیم کی موجودگی میں جو دنیا میں بڑی تبدیلی لا رہی ہے۔ اور میں شدت سے اس بات کی شکر گزار ہوں کہ آج آپ لوگوں سے بات کرنے کا موقعہ ملا۔
اور ساتھ ہی مجھے حیرت بھی ہے، کہ جب میں پیچھےمڑ کراپنی زندگی پر نظر ڈالتی ہوں تو وہ آخری چیز جو میں کرنا چاہتی تھی وہ کسی مذہب میں شامل ہونا یا اس پر لکھنا سچی بات ہے کہ جب میں نے کانوینٹ چھوڑاتو مذہب کو بھی خیرباد کہا۔ اور میں نے سوچا کہ بس بہت ہوا اور 13 سال تک میں اس سے دور رہی۔ میں انگریزی ادب کی پروفیسر بننا چاہتی تھی۔ اور میں فوری طور پر ادیب بھی نہیں بننا چاہتی تھی، خاص طور پر۔ مگر اسکے بعد مجھےایک پیشہ ورانہ مشکلات کے تسلسل کا سامنا ہوا۔ ایک کے بعد ایک، اور آخر میں میں نے اپنے آپ کو ٹیلی وژن پر پایا(ہنسی) میں نے بل مایر سے کہا تو اس نے کہا"ارے ہم تو سب کو لے لیتے ہیں" (ہنسی)
اور میں شاید کچھ مختلف الراۓ مذہبی پروگرام کرتی رہی۔ .U.K میں یہ بہت اچھا چلاجہاں مذہب بہت زیادہ غیر معروف ہے۔ تو پھر۔ ایک دفعہ، زندگی میں صرف ایک مرتبہ، آخر کار میں مرکزی دھارے میں شامل ہوئی۔ مگر میں ابتدائی عیسائیت پر فلم بنانے کیلیے یروشلم بھیج دی گئی۔ اور وہاں، پہلی دفعہ، میرا سامنا دوسرے مذاہب کے طور طریقوں سے ہوا۔ یہودیت اور اسلام، عیسائیت کے جڑواں مذاہب۔ اور جب مجھے علم ہوا کہ میں ان عقائد کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی میرے اپنےسخت مذہبی پس منظر کے باوجود۔ میں نے یہودیت کو صرف عیسائیت کی ابتدائی حالت کی شکل میں ہی سمجھا تھا، اور اسلام کے بارے میں تومجھے کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔
لیکن اس شہر میں، اس اذیت سے بھرے شہرمیں جہاں آپ تینوں عقائد کو بے آرامی کے ساتھ ایک دوسرےسے الجھتے ہوئے پائیں گے آپکو انکے درمیان گہرا تعلق بھی سمجھ میں آجائے گا۔ اور یہ دوسرے مذاہب کے طور طریقوں کا مطالعہ ہی تھا جو مجھے واپس لایا اس احساس کی طرف کہ مذہب کیا ہوسکتا ہے، اور اصل میں مجھے اس قابل کیا کہ میں اپنے عقیدے کو بھی ایک دوسری روشنی میں دیکھ سکوں۔
اور مطالعہ کے دوران مجھے کچھ حیرت انگیز چیزیں ملیں جو پہلے کبھی میرے ساتھ نہیں ہوئیں تھیں۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ دن جو میں سمجھتی ہوں کہ مذہب کے ساتھ تھے مجھے وہ سب کچھ بہت شاندار معلوم ہوا۔ یہ نظریات بغیر ثابت ہوئے اور مجرد لگے۔ اور مجھے بڑی حیرت ہوئی جب میں نے سنجیدگی کے ساتھ دوسرے طریقوں کا مطالعہ شروع کیا مجھے یہ سمجھ میں آنے لگا کہ عقائد- جنکو آج ہم اتنا بڑا مسئلہ بناتے ہیں - صرف ایک تازہ ترین مذہبی جوش و خروش ہے جس نے صرف یورپ میں سر اٹھایا ہے،تقریباً 17 ویں صدی میں۔ یہ لفظ "عقیدہ" بذات خود ابتدائی طور پر محبت، انعام، اور محبوب رکھنےکے معنوں میں تھا۔ 17 ویں صدی میں اس نے اپنا مرکزمحدود کرلیا ان وجوہات کی بنا پر جنکو میں اس کتاب میں تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہوں جو میں اس وقت لکھ رہی ہوں، جیسے کہ- مطلب یہ کہ ایک خاص نظریات کی بنیاد پر دانشورانہ عروج "میں یقین رکھتا ہوں" اسکا یہ مطلب نہیں کہ " میں عقیدے کے کچھ بنیادی چیزوں کو مانتا ہوں" اس کا مطلب تھا "میں اختیار کرتا ہوں۔ میں اپنے آپکو سپرد کرتا ہوں"۔ بیشک، کچھ دنیاوی تہذیبوں نے مذہبی دقیانوسیت کی طرف توجہ نہیں کی۔ قرآن میں، مذہبی رائے - مذہبی دقیانوسیت - کو ظن کہہ کر ایک طرف کردیا گیا ہے: خود کی بنائی ہوئی رائے اس معاملے کے بارے میں جسکے بارے میں کسی کو بھی یقین نہ ہو اور جو لوگوں کو جھگڑالو اور بیوقوفی کی حد تک فرقہ وار بناتا ہے۔ (ہنسی)
تو اگر مذہب چیزوں کو ماننے کے بارے میں نہیں ہے تو پھر ہے کیا؟ جو مجھے سمجھ میں آیا ہے، یہاں سے وہاں تک، مذہب ایک مختلف طریقے سے پیش آنے کا نام ہے۔ بجائے اسکے کہ آپ یہ فیصلہ کریں کہ آپکو خدا پر ایمان ہے کہ نہیں، پہلے آپکو کچھ کرنا ہوگا۔ آپکو ایک وابستگی کی شکل میں پیش آنا ہوگا۔ اور پھر آپکو مذہب کی سچائی سمجھ میں آنا شروع ہو جائے گی۔ اور پھر مذہبی نظریات کا مطلب ہی عمل کیلیے آمادہ کرنا ہے؛ آپ انکو صرف اسی وقت سمجھتےہیں جب آپ ان پر عمل کرتے ہیں۔
اور، یہاں دردمندی اس عمل میں فخر کا مقام پاتی ہے۔ اور یہ ہے وہ ایک جکڑنے والی حقیقت یہاں سے وہاں تک، ہر ایک دنیا کے بڑے مذاہب میں ، دردمندی دوسروں کے ساتھ ملکر اس بات کو محسوس کرنے کی صلاحیت جس طرح آج شام کے بارے میں ہم سوچ رہے ہیں- صرف حقیقی مذہبی ہونے کا امتحان ہی نہیں، یہ ہمیں لے جاتا ہے اس چیز کی موجودگی کی طرف جسے یہودی، عیسائی، اور مسلمان "خدا" یا "رب" کہتے ہیں۔ یہ دردمندی ہےجو تمہیں اطمینان کی طرف لیجاتا ہے، بدھا کا کہنا ہے۔ کیوں؟ اسلیے کہ دردمندی میں جب ہم دوسروں کے ساتھ محسوس کرتے ہیں، ہم اپنے آپکو اپنی دنیا کے مرکز سے ہٹا کر رکھتے ہیں اور ہم ایک اور شخص کو اس جگہ پررکھتے ہیں۔ اور جب ہم اپنی انا سے نجات پا لیتے ہیں، تو ہم تیار ہوجاتے ہیں الہیت کو دیکھنے کیلیے۔
اور خاص طور پر، دنیا کی ہر ایک بڑی تہذیب نے روشنی ڈالی ہے - کہا گیا ہے - اور رکھا ہے اپنی تہذیب کے مرکز میں اس چیز کو جو کہ پہچانا جاتا ہے اور بن چکا ہے سنہرا اصول۔ پہلی دفعہ مسیح سے پانچ صدی قبل کنفیوشس نے یہ کہا: "دوسروں کے ساتھ وہ مت کروجو تم چاہتے ہو کہ دوسرے تمہارے ساتھ نہ کریں" یہ،جو اس نے کہا، وہ مرکزی خیال تھا جو اسکی تمام تعلیمات میں جاری رہا۔ اور جو اسکے شاگردوں کوپورے دن اور ہر دن اپنے معمولات میں شامل کرنا پڑا۔ اور یہ وہ سنہرا اصول تھا جس نے ان سب کو اعلی ترین قدروں تک پہنچایا جس کو اس نے انسانیت کہا، انسانی ہمدردی، جو کہ بذات خود ایک اعلی ترین تجربہ تھا۔
اور یہ وحدانیت کیلیے انتہائی لازم بھی تھا۔ یہاں عظیم ربی ہلًیل، جو کہ مسیح کا پرانا رفیق تھا، کے بارے میں ایک مشہور کہانی ہے۔ ایک دیہاتی اسکے پاس آیا اور کہا کہ وہ یہودیت قبول کرسکتا بشرطیکہ ربی ایک ٹانگ پر کھڑے رہ کر یہودیت کی پوری تعلیم زبانی سنادے۔ ہلًیل ایک ٹانگ پر کھڑا ہوا اور کہا" جو چیز تمہیں ناپسند ہو وہ اپنے پڑوسی سے بھی نہ کرو۔ یہ توریت ہے۔ باقی سب اسکی تفصیلات ہیں۔ جاؤاور جاکر اسے پڑھو" (ہنسی)
اور "جاؤ اور جاکر اسے پڑھو" ہی اسکا مقصد تھا۔ اس نے کہا،"تمہارے لیے ضروری ہے کہ اپنی بات کا مطلب واضح کردو کہ توریت کی ہر ایک آیت ایک تفصیل ہے ایک ملمع ہے "سنہرے اصول" پر۔ عظیم ربی مایر نے کہاکہ صحیفے کی کوئی بھی تاویل جو نفرت، ذلت، یادوسرے لوگوں کی توہین کی طرف لے جاتی ہو- کوئی بھی لوگ - ناجائز ہے۔
پادری آگسٹین کا بھِی بعینہ یہی کہنا تھا۔ صحیفہ، وہ کہتا ہے، "کچھ نہیں سکھاتا سوائے خیر کے عمل کے اور ہمیں لازمی طور پر نہیں رکنا چاہیے صحیفے کی تاویل پر جب تک ہم اسکی ہمدردی پر مبنی تاویل نہ پالیں" اور ان کچھ مشکل تر مضامین میں دردمندی پانے کی یہ جدوجہد عام زندگی میں بھی ایسا ہی کچھ کرنے کی ایک اچھی مشق ہے۔(تالیاں)
لیکن اب اس دنیا پر نظر ڈالیے، جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں- جہاں مذہب اغوا ہوچکا ہے۔ جہاں دہشتگرد اپنی زیادتیوں کو جائز ثابت کرنے کیلیے قرآنی آیات کا استعمال کرتے ہیں۔ جہاں بجائے مسیح کے الفاظ کے استعمال کرنے کے کہ"اپنے دشمن سے پیار کرو۔ دوسروں کے بارے میں فیصلہ مت کرو،" ہم نے عیسائیت کا چشمہ چڑھا لیا ہے لا منتہائی طور پر دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کیلیے، صحیفے کا لامحدود استعمال دوسرے لوگوں سے بحث کرنے کیلیے، دوسروں کو نیچا دکھانے کیلیے۔ صدیوں سے دوسروں کو دبانے کیلیے مذہب کا استعمال ہو رہا ہے، اور اسکی وجہ صرف انسانی انا اور انسان کی لالچ ہے۔ ہماری نسل میں شاندار چیزوں کو برباد کرنے کی صلاحیت ہے۔
تو پھر تہذیبوں نے یہ بھی اصرار کیا - اور میں سمجھتی ہوں یہ ایک اہم نکتہ ہے - کہ آپ دردمندی کو نہ تو محدود کرسکتے ہیں اور لازماً آپکو کرنا بھی نہیں چاہیے اپنے گروہ: آپکی اپنی قوم، آپکے اپنے ہم-مذہب، آپکے اپنے ملک کے لوگوں میں۔ آپکے پاس ہونا چاہیےوہ چیز جو چینی جڑی بوٹیوں میں سے ایک کہلاتی ہے " جیان آئی"۔ ہر ایک کیلیے خیال۔ اپنے دشمنوں کو پیار کرو۔ اجنبی کو عزت دو۔ ہم نے تمھیں بانٹا ہے قرآن کہتا ہے، قبیلوں اور قوموں میں تاکہ تم ایک دوسرے کو جان سکوـ
اور یہ، پھر - ایک آفاقی پہنچ - مذہب کے استعمال میں غلو سے دب رہی ہے - مذہب کا بیجا استعمال- غلط فائدوں کیلیے۔ اب تو مجھےان ٹیکسی ڈرائیوروں کی تعداد بھی یاد نہیں جو، جب میں انکو اپنے پیشے کے بارے میں بتاتی ہوں، مجھے بتاتے ہیں کہ مذہب وجہ رہا ہے تاریخ کی تمام بڑی عظیم جنگوں میں۔ غلط۔ ہمارے موجودہ مسائل کے تمام اسباب سیاسی ہیں۔
مگر اسکو غلط مت سمجھیے گا، مذہب ایک قسم کی دراڑ ہے، کہ جب کوئی تناذعہ کسی علاقے میں جڑ پکڑتا ہے، مذہب اس میں کھنچ سکتا ہے اور مسئلے کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہماری جدیدیت انتہائی شرربار ہے۔ 1914 اور 1945 کے درمیان، 70 ملین لوگ صرف یورپ میں ہتھیاروں کی لڑائی میں مارے گئے۔ اور ہمارے بہت سارے ادارے، یہاں تک کہ فٹبال جو کہ ایک اچھی تفریح ہوتا تھا اب ہنگامے کروادیتا ہےجس میں یہاں تک کہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ اور یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں کہ مذہب بھی ان پرتشدد عقائد سے متاثر رہا ہے۔
اور ہمارے اطراف میں بھی، میں سمجھتی ہوں، مذہبی جہالت بہت زیادہ ہے۔ لوگ اب مذہبی عقائد اور ایمان کو برابر ماننے لگے ہیں گویا کہ - ہم مذہبی لوگوں کو ایمان والے کہہ کر بلاتے ہیں، گویا کہ اصل چیز وہی ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ اور اکثر اوقات، ضمنی مقاصد بنیادی چیزوں کی طرف دھکیل دیے جاتے ہیں، دردمندی اور سنہرے اصول کی جگہ۔ کیونکہ سنہرا اصول مشکل ہے۔ میں کبھی کبھی، جب بات کر رہی ہوتی ہوں مجمعوں میں دردمندی کے بارے میں، میں کبھی دیکھتی ہوں کچھ لوگوں کے چہروں پر بکھرے باغیانہ تاثرات کیونکہ مذہب کو بہت سارے مذہبی لوگ دردمندی کے مقابل زیادہ صحیح سمجھتے ہیں۔ (ہنسی)
اب - مگر بات ساری یہ نہیں ہے۔ ستمبر 11 سے، جب اسلام پر میرے کام نے مجھے اچانک عوامی زندگی میں اس طرح اتارا جیسا میں نے سوچا بھی نہیں تھا، میں اس قابل ہوئی کہ پوری دنیا میں جا سکوں اور پائی، ہر اس جگہ جہاں میں گئی، ایک تبدیلی کی خواہش۔ میں ابھی ابھی پاکستان سے آئی ہوں جہاں حقیقتاً ہزاروں لوگ میرے لیکچرز میں آئے، کیونکہ انکی خواہش تھی، سب سے پہلے تو یہ کہ ایک دوستانہ مغربی آواز کو سنیں۔ اور خاص طور پر نوجوان لوگ آرہے تھے۔ اور مجھ سے پوچھ رہے تھے- یہ نوجوان لوگ کہہ رہے تھے، " ہم کیا کر سکتے ہیں؟ہم تبدیلی لانے کیلیے کیا کرسکتے ہیں؟" اور پاکستان میں میرے میزبان نے کہا، " دیکھیے، ہم سے بہت زیادہ نرمی مت دکھائیے۔ ہمیں بتائیے کہ ہم کہاں غلط جارہے ہیں۔ آئیے ہم سب ملکر دیکھیں کہ مذہب کہاں ناکام ہو رہا ہے۔"
کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اسکے ساتھ - ہماری موجودہ صورتحال اسقدر تشویشناک ہے اس وقت کہ کوئی نظریہ جو آفاقی افہام کے احساس کو نہ پھیلائے اور باہمی آفاقی قدر شناسی کو، وہ وقت کی ضرورت پر ناکام ہو رہا ہے۔ اور مذہب، امریکہ میں اسکی وسیع تقلید کے ساتھ - لوگ مختلف طریقوں سے مذہبی ہوسکتے ہیں، جیسا کہ ایک رپورٹ میں دکھایا گیا ہے - مگر بہرحال وہ مذہبی رہنا چاہتے ہیں۔ یہ صرف مغربی یورپ ہی ہے جس نے سیکولرزم کو قائم رکھا ہوا ہے، جو کہ اب شاید بڑی حد تک فرسودہ نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔
مگر لوگ مذہبی ہونا چاہتے ہیں، اور مذہب کو بنانا چاہئیے دنیا میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلیے ایک قوت، جو کہ یہ ہوسکتی ہے اور ہونا بھی چاہئیے - سنہرے اصول کی وجہ سے۔ "دوسروں کے ساتھ ایسا مت کیجیے جو آپ چاہتے ہیں کہ دوسرے آپ کے ساتھ نہ کریں" ایک بنیادی اصول جو آفاقی سطح پر عمل میں لایا جانا چاہئیے۔ ہمیں دوسری قوموں کے ساتھ اسطرح کا سلوک نہیں کرنا چاہئیے جو ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ساتھ ہو۔
اور یہ - جو بھی ہمارے تباہ حال عقائد ہیں - مذہبی معاملہ ہیں - ایک روحانی معاملہ ہے۔ یہ ایک گہرا اخلاقی معاملہ ہے جو ہمیں جوڑتا ہے اور ہم سب کو جوڑنا چاہئیے۔ اور جیسا کہ میں کہتی ہوں، یہاں ہر طرف تبدیلی کی ایک بھوک ہے۔ یہاں امریکہ میں، میرا خیال ہے آپ نے اس انتخابی مہم میں دیکھی ہوگی: تبدیلی کی خواہش۔ اور لوگ ہر طرف گرجا گھروں میں اور ہر طرف مسجدوں میں اس پورے بر اعظم میں ستمبر 11 کے بعد، مقامی طور پر افہام و تفہیم کا رابطہ قائم کرنا چاہ رہے ہیں۔ مسجدوں میں، یہودی عبادت گاہوں میں ، کہہ رہے ہیں، " ہمیں لازماً ایک دوسرے سے بات شروع کرنی چاہئیے۔" میرا خیال ہے کہ یہ وہ وقت ہے کہ برداشت کے نظریے سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کی قدرشناسی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
میں۔ یہاں ایک کہانی ہے جو میں بیان کرنا چاہونگی۔ یہ "دی لیاد" سے ہے۔ مگر یہ آپکو بتاتی ہے اسکی روحانیت کیا ہونی چاہئیے۔ آپ "دی لیاڈ" کی کہانی جانتے ہونگے۔ 10 سالہ جنگ یونان اور ٹرائے کے مابین۔ ایک موقعہ پر "اچیلیس" مشہور یونانی جنگجو، اپنی فوجوں کو جنگ سے نکال لیتا ہے، اور پوری جنگی کوشش متاثر ہوجاتی ہے۔ اور اسی مسئلہ کے اٹھنے کے دوران، اسکا عزیز دوست، پیٹروکلس، مارا جاتا ہے - اور ایک انفرادی حملے میں جو ہیکٹر، ٹراجان شہزادے کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور اچیلیس غم، غصہ، اور انتقام میں پاگل ہوجاتا ہے، اور لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے - وہ ہیکٹر کو مارتا ہے، اسکی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے اور پھر اسکی لاش کو تدفین کیلیے اسکے گھر والوں کو واپس دینے سے انکار کردیتا ہے۔ جسکا مطلب یہ کہ، یونانی عقائد کے مطابق، ہیکٹر کی روح ہمیشہ ہمیشہ کیلیے بھٹکے گی اور گم ہو جائے گی۔ اور تب ایک رات، پریام، ٹرائے کا بادشاہ، ایک بوڑھا آدمی، یونانی چھاؤنی میں بھیس بدل کر آتا ہے، اچیلیس کے خیمے تک پہنچتا ہے اپنے بیٹے کی لاش مانگنے کیلیے۔ اور ہر ایک حیرت میں آجاتا ہے جب بوڑھا اپنے سر سے غلاف اتارتا ہےاور اپنے آپکوظاہر کرتا ہے۔ اور اچیلیس اسکی طرف دیکھتا ہے اور اپنے باپ کو یاد کرتا ہے۔ اور رونا شروع کردیتا ہے۔ اور پریام اس آدمی کی طرف دیکھتا ہے جس نے اسکے کتنے ہی بیٹوں کا خون کیا ہے، اور، وہ بھی، رونا شروع کردیتا ہے۔ اور انکے رونے کے شور سے پورا گھر بھر جاتا ہے۔ یونانیوں کا عقیدہ تھا کہ ساتھ ملکر رونے سے لوگوں کے درمیان رشتہ قائم ہوتا ہے۔ اور پھر اچیلیس ہیکٹر کی لاش کو اٹھاتا ہے، اور پڑی احتیاط کے ساتھ باپ کے حوالے کرتا ہے، اور یہ دو آدمی ایک دوسرےکی طرف دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو دیوتائوں کی مانند دیکھتے ہیں۔
یہ بنیادی عقیدہ بھی پایا جاتا ہے تمام مذاہب میں۔ یہ کہ کیسا معلوم ہوتا ہے جب اس خوف پر قابو پالیا جائے جو ہم پر ہوتا ہے جب ہم اپنے دشمنوں کی دھمکی کے زیر اثر ہوتے ہیں، اور دوسروں کی قدر کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ بات بڑی اہم ہے کہ عبرانی زبان میں، خدا کے متعلق، "پاک" کیلیے لفظ ہے "کادوش": علیحدہ، دوسرا۔ اور اکثر اوقات، غالباً، ہمارے دشمنوں کی وہی دوسرائیت جو ہمیں وہ انتہائی اعلی ترین پراسرار احساس دلاتی ہےجو کہ خدا ہے۔
اور اب یہ ہے میری خواہش: میں چاہتی ہوں کہ آپ مدد کریں بنانے میں، ابتدا کرنے میں اور بڑھانے میں ایک دردمندی کے فرمان کی- جسکی تیاری الہامی سوچ رکھنے والا ایک گروہ کرے جو ہو تین ابراہیمی ادیان یہودیت، عیسائیت، اور اسلام سے، اور جسکی بنیاد سنہرے اصول کے بنیادی اصول پر ہو۔ ہمیں ضرورت ہے ایک تحریک کی ان لوگوں کے درمیان جن سے میں سفر کے دوران ملتی ہوں - اور غالباً آپ بھی ملتے ہونگے - جو کسی بھی شکل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، اور جو دعوی کرتے ہیں کہ انکا مذہب، جو کہ وہ محسوس کرتے ہیں - جیسے میں کہتی ہوں - کہ اغوا ہوچکا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لوگوں کو یہ طاقت دیں کہ وہ دردمندی کے بنیادی عقیدوں کو یاد رکھیں، اور انہیں رہنمائی فراہم کریں۔ یہ فرمان کوئی ضخیم دستاویز نہیں ہوگی۔ میں یہ دیکھنا چاہونگی - اس بات کیلیے رہنمائی کرنے میں کہ صحیفوں کی تاویل کیسے کی جائے، کہ جن مضامین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ یاد رکھیں جو کہ ربیوں اور آگسٹین نے کہا کہ کس طرح صحیفوں پر خیر کے عمل کے اصولوں کا اطلاق کیا جائے۔ چلیے اسی طرف واپس آتے ہیں۔ اور خیال بھی وہی، یہودیوں، عیسائیوں، اور مسلمانوں کا یہ مذاہب اب اکثر اوقات کم عقلوں کے شمار کیے جاتے ہیں - ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ایک دستاویز بنائیں جس پر ہم امید کرتے ہیں کہ کم از کم ایک ہزار لوگوں سےدستخط کروائیں جائیں، دنیا کے تمام بڑے مذاہب کے بڑے مذہبی قائدین سے۔
اور اصل تو آپ لوگ ہیں۔ میں تو ایک انفرادی عالمہ ہوں۔ باوجود اسکے کہ میں اچھےوقت کو پسند کرتی ہوں، اور جسے میں اپنی طرف آتا دیکھ کے متعجب ہورہی تھی -میں نے دراصل ایک بڑا وقت تنہا گزارا ہے، مطالعہ کرتے ہوئے، اور میں نہیں ہوں ایک بہت - آپ لوگ ہیں ذرائع ابلاغ کے علم کے ساتھ جو مجھے بتائیں کہ یہ ہم ہر ایک تک کیسے پہنچا سکتے ہیں، ہر ایک جو اس کرۂ ارض پر ہے۔ میں نے کچھ ابتدائی باتیں کر رکھی ہیں، اور آرک بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹوڈیسمنڈ ٹوٹو، مثال کے طور پر، بہت خوشی کے ساتھ اپنا نام اس میں دے رہے ہیں، اسی طرح امام فیصل رؤف بھی، نیویارک شہر کے امام۔ مزید یہ کہ، میں اقوام متحدہ میں تہذیبوں کے اتحاد کے ساتھ بھی کام کرونگی۔ میں اقوام متحدہ کے تہذیبوں کے اتحاد(Alliance of Civilizations) کا حصہ تھی، جسے کوفی عنان کی ہدایت تھی کہ انتہا پسندی کی وجوہات دریافت کرے، اور رکن ممالک کو وہ عملی رہنما خطوط فراہم کرے کہ انتہا پسندی کے رجحان کے بڑھنے کو مزید کیسے روکا جائے۔
اورAlliance نے مجھے بتایا ہے کہ اس کام کو کرنے میں وہ بڑی مسرت محسوس کر رہے ہیں۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ - میں دیکھ سکتی ہوں کہ آپ میں سے کچھ لوگ پریشان نظر آرہے ہیں، کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سست رفتاراور بےڈھنگا ادارہ ہے، لیکن جو اقوام متحدہ کرسکتی ہے وہ یہ کہ ہمیں غیر جانبداری فراہم کرسکتی ہے، تاکہ یہ نہ لگے کہ یہ مغربی یا عیسائی آغازیہ ہے، بلکہ یہ آرہا ہے اقوام متحدہ کی طرف سے، دنیا کی طرف سے - جو کہ اسکی ایک طرح کی بیوروکریسی میں بھی مدد کریگا۔
اور میں آپ پر زور ڈالتی ہوں کہ آپ اسکے بننے میں میرے ساتھ شامل ہوں- اس فرمان میں - اس فرمان کی تیاری میں، اسکے اجرا میں اور اسکے پھیلنے میں تاکہ یہ بن جائے میں اسے دیکھنا چاہونگی ہر کالج میں، ہر گرجے میں، ہر مسجد میں، ہر یہودی عبادت گاہ میں پوری دنیا کی، تاکہ لوگ اپنےمذہب کی طرف دیکھیں، اسکو اپنائیں، اور مذہب کو دنیا میں امن کا ذریعہ بنائیں، جو کہ یہ کرسکتا ہے اور کرنا چاہئیے۔ آپکا بہت بہت شکریہ۔ (تالیاں)
You can share this video by copying this HTML to your clipboard and pasting into your blog or web page. This video will play with subtitles.
You either have JavaScript turned off or have an old version of the Adobe Flash Player. To view this rating widget you
need to get the latest Flash player.
If your browser allows only "trusted sites" to execute Javascript, you should add the "googleapis.com" domain to your whitelist to allow our Flash detection to work properly.
Got an idea, question, or debate inspired by this talk? Start a TED Conversation.
لوگ مذہبی ہونا چاہتے ہیں، عالمہ کیرن آرمسٹرانگ کہتی ہیں۔ہم آہنگی پیدا کرنے کیلیے ہمیں مذہب کو ایک قوت بنانا چاہیے۔ وہ TED کمیونٹی سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انکی ہمدردی کے عہدنامے کی تیاری میں مدد کی جائے تاکہ مرکزی آفاقی مذہبی نظریہ کے سنہرے اصول کو دوبارہ زندہ کیا جاسکے۔
Karen Armstrong is a provocative, original thinker on the role of religion in the modern world. Full bio »
12:06 Posted: Jun 2007
Views 616,130 | Comments 187
12:53 Posted: Oct 2006
Views 273,933 | Comments 51
18:42 Posted: Sep 2008
Views 1,575,777 | Comments 595
Just follow the guidelines outlined under our Creative Commons license.
This comment will be attributed to . Not ? Sign Out.