Follow TED
Be the first to know about new TEDTalks, TED news and other announcements.
Click on any phrase to play the video from that point.
کوئی 10 سال پہلے میں نے سویڈن کے انڈر گریجویٹ طلبہ کو عالمی ترقی پڑھانے کا کام اپنے ذمہ لیا۔ یہ افریقہ میں بھوک کے متعلق تحقیق کرنے والے افریقی اداروں کے ساتھ 20 سال تک وابستگی کے بعد کی بات ہے، لہٰذا مجھ سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ مجھے دنیا کے متعلق تھوڑا بہت علم ہوگا۔ میں نے اپنی میڈیکل یونیورسٹی، کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ، میں انڈر گریجویٹ کی سطح کا ایک کورس، عالمی صحت، پڑھانا شروع کر دیا۔ لیکن جب آپ کو اس قسم کا موقع ملتا ہے، تو آپ کچھ گھبرا جاتے ہیں۔ میں نے سوچا، ہمارے پاس آنے والے ان طلبہ کے پاس سویڈش کالجوں کے تعلیمی نظام کے اعلٰی ترین گریڈ ہیں ۔۔ لہٰذا ہوسکتا ہے وہ ہر اس چیز کے متعلق جانتے ہوں جن کا میں انہیں درس دوں گا۔ چنانچہ میں نے ان کی آمد پر ایک پیشگی امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ اور ایک سوال جس سے میں نے خود بھی بہت کچھ سیکھا یہ تھا: "ان پانچ جوڑوں میں سے کس ملک میں سب سے زیادہ بچوں کی شرحِ اموات ہے؟"
اور میں نے انہیں اکٹھا رکھا تھا، چنانچہ ملکوں کے ہر جوڑے میں سے،♫ ایک دوسرے کے مقابلے دوگنی شرح اموات رکھتا ہے۔ اور اس کا مطلب ہے کہ اعداد و شمار کی غیر یقینی صورت حال سے یہ کہیں زیادہ بڑا فرق ہے۔ میں یہاں آپ کا امتحان نہیں لوں گا، لیکن یہ ملک ترکی تھا، جس میں سب سے زیادہ شرح ہے، پھر پولینڈ، روس، پاکستان اور جنوبی افریقہ ہیں۔ اور سویڈش طلبہ کے نتائج یہ تھے۔ میں نے اسے کامیابی سے کر لیا چنانچہ میرے اعتماد کو سہارا ملا، جو پہلے کافی کم تھا، اور میں خوش ہو گیا، بلاشبہ: پانچ ممکنہ میں سے 1.8 درست جواب۔ اس سے مراد ہے کہ بین الاقوامی صحت کے پروفیسر کی جگہ کی واقعی ضرورت تھی ۔۔۔ (قہقہے) اور میرے کورس کی بھی۔
لیکن ایک دن رات گئے جب میں رپورٹ مرتب کر رہا تھا مجھے حقیقت میں اپنی دریافت کا احساس ہوا۔ میں نے ظاہر کیا تھا کہ سویڈن کے اعلٰی ترین طلبہ کی دنیا کے متعلق معلومات، شماریات کی رو سے چمپانزیوں سے بھی غیر معمولی حد تک کم تھیں۔ (قہقہے)۔ کیونکہ چمپانزی نصف درست جواب دیتے اگر میں انہیں سری لنکا اور ترکی کے نام سے دو کیلے دے دیتا۔ ان معاملوں میں وہ نصف درست ہوتے۔
لیکن طلبہ اس سطح تک نہیں پہنچے۔ میرے لئے مسئلہ لاعلمی نہیں تھا: یہ پہلے سے قائم شدہ تصورات تھے۔
میں نے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسروں کا بھی ایک غیر اخلاقی مطالعہ سرانجام دیا۔ (قہقہے) ۔۔ جو طب کے میدان میں نوبل انعام دیتے ہیں، اور وہ اس معاملے میں چمپانزی کے برابر تھے۔ (قہقہے)۔ اس موقع پر مجھے احساس ہوا کہ رابطے کی واقعی ضرورت تھی، کیونکہ دنیا کی معلومات اور ہر ملک میں بچوں کی صحت کے اعداد و شمار ہر کوئی جانتا ہے۔
ہم نے یہ سافٹ ویٹر بنایا جس میں یوں نظر آتا ہے: یہاں ہر بلبلہ ایک ملک ہے۔ یہاں پر یہ ملک چین ہے۔ یہ بھارت ہے۔ بلبلے کا سائز آبادی کو ظاہر کرتا ہے اور اس خطِ مستقیم پر میں نے شرحِ بارآوری رکھی ہے۔ کیونکہ میرے طلبہ نے دنیا کے متعلق وہی کچھ کہا جو ان کے تصور میں تھا اور میں نے ان سے پوچھا "تمہارا دنیا کے متعلق حقیقت میں کیا خیال ہے؟" سب سے پہلے تو میں یہ دریافت کیا کہ درسی کتاب بنیادی طور پر ٹن ٹن تھی۔ (قہقہے)۔ اور ان کا جواب تھا، "دنیا ابھی تک 'ہم' اور 'وہ' پر مشتمل ہے۔ اور ہم مغربی دنیا ہیں جبکہ وہ تیسری دنیا ہیں۔" "اور مغربی دنیا سے تمہاری کیا مراد ہے؟" میں نے پوچھا۔ "اس سے مراد طویل عمر اور مختصر گھرانہ ہے، اور تیسری دنیا میں مختصر زندگی اور طویل گھرانہ ہے۔"
چنانچہ میں نے وہاں یہی کچھ دکھایا۔ میں نے شرحِ بارآوری کو یہاں رکھا یعنی فی عورت بچوں کی تعداد، ایک، دو، تین، چار تقریباً آٹھ تک بچے فی عورت۔ ہمارے پاس تمام ممالک میں گھرانوں کے سائز کے بڑے اچھے اعداد و شمار 1962 یا تقریباً 1960 سے موجود ہیں۔ غلطی کا امکان کم ہے۔ یہاں میں پیدائش کے وقت متوقع عمر رکھتا ہوں، جو بعض ممالک میں 30 سال سے لے کر تقریباً 70 سال تک ہے۔ 1962 میں یہاں حقیقت میں ایسے ملکوں کا ایک گروپ موجود تھا، جو صنعتی ملک تھے اور ان میں چھوٹے گھرانے اور طویل عمریں پائی جاتی تھیں۔ اور یہ ترقی پذیر ملک تھے: ان کے بڑے گھرانے تھے اور نسبتاً مختصر زندگیاں تھیں۔ اب 1962 سے کیا فرق پڑا ہے؟ ہم فرق دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا طلبہ درست ہیں؟ کیا ابھی تک دو قسموں کے ملک پائے جاتے ہیں؟ یا کیا ان ترقی پذیر ممالک میں گھرانوں کا سائز مختصر ہوگیا ہے اور وہ یہاں رہتے ہیں؟ یا کیا ان کی عمریں طویل ہو گئی ہیں اور وہ وہاں رہتے ہیں؟
چلیں دیکھتے ہیں۔ ہم نے اس وقت دنیا کو روک دیا۔ یہ سب اقوامِ متحدہ کے شماریات ہیں جو دستیاب ہیں۔ یہ رہے۔ کیا آپ انہیں دیکھ سکتے ہیں؟ وہ رہا چین، جہاں صحت کی سہولیات بہتر ہو رہی ہیں، بہتری آ رہی ہے۔ تمام سبز لاطینی امریکا کے ملک مختصر گھرانوں کی جانب گامزن ہیں۔ زرد رنگ میں یہاں عرب ممالک ہیں، ان کے گھرانے بڑے ہیں لیکن ان کی طویل زندگی نہیں لیکن بڑے گھرانے بھی نہیں۔ افریقی وہاں نیچے سبز رنگ میں ہیں۔ وہ ابھی تک وہیں ہیں۔ یہ بھارت ہے۔ انڈونیشیا بھی تیزی سے اس سمت بڑھ رہا ہے۔ (قہقہے)۔ اور 80 کی دہائی میں، آپ بنگلہ دیش کو ابھی تک وہاں افریقی ممالک کی صف میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اب، بنگلہ دیش ۔۔ یہ ایک معجزہ ہے جو 80 کی دہائی میں ہوا: اماموں نے خاندانی منصوبہ بندی کی تبلیغ شروع کر دی۔ وہ اس کونے میں پہنچ گیا۔ اور 90 کی دہائی میں ہم نے بھیانک ایچ آئی وی بیماری دیکھی جس نے افریقی ممالک کی متوقع عمر کو کم کر دیا اور وہ سب کونے میں اوپر آگئے، جہاں ہمارے پاس طویل زندگیاں اور مختصر گھرانہ ہے، اور ہمارے پاس ایک مکمل نئی دنیا ہے۔ (تالیاں)۔
میں ریاستہائے متحدہ امریکا اور ویت نام کے درمیان براہ راست موازنہ کرتا ہوں۔ 1964: امریکا میں مختصر گھرانے اور طویل عمر پائی جاتی تھی؛ ویت نام میں بڑے گھرانے اور مختصر زندگیاں تھیں۔ اور پھر یہ ہوا: جنگ کے دوران اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام اموات کے باوجود، متوقع عمر میں بہتری نظر آئی۔ سال کے اختتام تک، ویت نام میں خاندانی منصوبہ بندی کا آغاز ہو چکا تھا اور وہ مختصر گھرانوں کی جانب مائل ہوئے۔ اور ریاستہائے متحدہ امریکا میں طویل عمر، اور گھرانے کا وہی سائز رہا۔ اور اب 80 کی دہائی میں، انہوں نے کمیونسٹ منصوبہ بندی ترک کردی اور مارکیٹ پر مبنی معیشت میں شامل ہوگئے، جو کہ سماجی زندگی سے بھی تیز رفتار ہے۔ اور آج، 2003 میں ویت نام میں ہمارے پاس وہی متوقع عمر اور گھرانے کا وہی سائز ہے جو 1974 میں جنگ کے اختتام پر امریکا میں پایا جاتا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم اعداد و شمار کو نہ دیکھیں تو ہم سب ایشیا میں آنے والی غیر معمولی تبدیلی کا غلط تخمینہ لگائیں گے, جو کہ اقتصادی تبدیلی میں ہمارے مشاہدے سے قبل سماجی تبدیلی میں تھا۔
آئیں ایک اور طریقے کو دیکھتے ہیں جس میں ہم دنیا میں آمدنی کی تقسیم کو دکھا سکتے ہیں۔ یہ دنیا میں لوگوں کی آمدنی کی تقسیم ہے۔ ایک ڈالر، 10 ڈالر یا 100 ڈالر یومیہ۔ امیر اور غریب کے درمیان مزید کوئی فرق نہیں رہا۔ یہ ایک مفروضہ ہے۔ یہاں تھوڑا سا ابھار ہے۔ لیکن ہر جگہ لوگ ہیں۔ اور اگر ہم دیکھیں کہ آمدنی کہاں ختم ہوتی ہے ۔۔ آمدنی ۔۔ یہ دنیا کی 100 فیصد سالانہ آمدنی ہے۔ اور امیر ترین 20 فیصد، اس میں سے تقریباً 74 فیصد لے جاتے ہیں۔ اور غریب ترین 20 فیصد تقریباً دو فیصد لے کر جاتے ہیں۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کا تصور انتہائی مشکوک ہے۔ ہم امداد کے متعلق یوں سوچتے ہیں کہ یہ لوگ یہاں ان لوگوں کو امداد دے رہے ہیں۔ لیکن درمیان میں، ہمارے پاس دنیا کی بیشتر آبادی ہے اور اب ان کے پاس 24 فیصد آمدنی ہے۔
ہم نے یہ بات دیگر صورتوں میں سن رکھی ہے۔ اور یہ کون لوگ ہیں؟ مختلف ملک کہاں ہیں؟ میں آپ کو افریقہ دکھا سکتا ہوں۔ یہ ہے افریقہ۔ جہاں دنیا کی 10 فیصد آبادی زیادہ تر غربت میں زندگی بسر کرتی ہے۔ یہ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (OECD) ہے۔ امیر ملک۔ اقوام متحدہ کو عطیہ دینے والے ملکوں کا کلب۔ اور وہ یہاں اس طرف ہیں۔ افریقہ اور او ای سی ڈی ممالک کے درمیان کافی کچھ مشترک ہے۔ اور یہ لاطینی امریکا ہے۔ اس کے پاس اس دنیا میں سب کچھ ہے، لاطینی امریکا میں غریب ترین لوگوں سے لے کر امیر ترین لوگ بستے ہیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر، ہم مشرقی یورپ، مشرقی ایشیا، اور جنوبی ایشیا کو رکھتے ہیں۔ اور اگر وقت میں واپس جائیں تو کیسا محسوس ہوگا، مثلاً 1970 میں؟ اس وقت یہ زیادہ بڑا ابھار تھا۔ اور ہمارے پاس مکمل غربت میں زندگی گزارنے والے ایشیائی باشندے تھے۔ دنیا کا مسئلہ ایشیا میں پائی جانے والی غربت تھی۔ اور اب اگر میں دنیا کو آگے بڑھاؤں آپ دیکھیں گے کہ آبادی کے اضافے کے ساتھ، ایشیا میں کروڑوں لوگ غربت کے چنگل سے نکل گئے ہیں جبکہ کچھ دوسرے لوگ غربت میں جا پھنسے ہیں، اور یہی ہمارا آج کا نمونہ ہے۔ اور عالمی بینک کا بہترین تخمینہ یہ ہے کہ ایسا ہی ہوگا، اور ہماری دنیا منقسم نہیں ہوگی۔ دنیا میں زیادہ تر لوگ درمیان میں رہیں گے۔
بلاشبہ، یہاں یہ ایک لوگارتھمی پیمانہ ہے، لیکن معیشت کا ہمارا تصور فیصد کے ہمراہ نمو پر مبنی ہے۔ ہم اسے صدویہ (فیصد کی شرح) کے ایک امکان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر میں اسے تبدیل کردوں، اور میں گھرانے کی آمدنی کی بجائے فی کس مجموعی ملکی پیداوار(GDP) لوں، اور میں ان انفرادی اعداد و شمار کو مجموعی ملکی پیداوار کے علاقائی اعداد و شمار میں بدل دوں، اور میں علاقوں کو یہاں نیچے لے جاؤں، تو بلبلے کا سائز پھر بھی آبادی ہی رہے گا۔ اور آپ کے پاس او ای سی ڈی وہاں ہیں، اور سب صحارا افریقہ وہاں ہے، اور ہم عرب ممالک کو وہاں لے جاتے ہیں، افریقہ اور ایشیا دونوں سے آتے ہوئے، اور ہم انہیں الگ رکھ دیتے ہیں، اور ہم اس خطِ مستقیم کو پھیلا سکتے ہیں، اور میں اسے یہاں اک نئی جہت دے سکتا ہوں، جس میں سماجی اقدار کو وہاں جمع کرتے ہوئے، بچوں کی بقا۔ اب میں نے اس خط مستقیم پر رقم رکھ دی، اور میرے پاس بچوں کی بقا کا امکان ہے۔ بعض ممالک میں، 99.7 فیصد بچے صرف پانچ سال کی عمر تک زندہ رہتے ہیں؛ دیگر میں صرف 70 سال تک۔ اور یہاں او ای سی ڈی، لاطینی امریکا، مشرقی یورپ، مشرقی ایشیا، عرب ممالک، جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ کے ممالک میں فرق نظر آتا ہے۔ بچوں کی بقا اور رقم کے درمیان ایک جہت بہت مضبوط ہے۔
لیکن میں سب صحارا افریقہ کے ممالک کو تقسیم کرنا چاہوں گا۔ وہاں صحت ہے اور اوپر بہتر صحت ہے۔ میں یہاں جا کر سب صحارا افریقہ کے ممالک کو تقسیم کر سکتا ہوں۔ اور جب یہ پھٹتا ہے تو اس ملک کے بلبلے کا سائز اس کی آبادی کے برابر ہے۔ وہاں نیچے سیرا لیون۔ ماریشس وہاں اوپر۔ ماریشس وہ پہلا ملک تھا جس نے تجارتی پابندیوں سے جان چھڑا لی، اور وہ اپنی چینی فروخت کرنے کے قابل ہوئے۔ وہ یورپ اور لاطینی امریکا کے عوام کے ساتھ مساوی شرائط پر اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات فروخت کرسکتے تھے۔
افریقہ کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ اور گھانا یہاں مرکز میں ہے۔ سیرا لیون میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد۔ یہاں یوگنڈا میں ترقیاتی امداد۔ وہاں سرمایہ کاری کا وقت آپ وہاں تعطیلات منانے جا سکتے ہیں۔ افریقہ کے اندر بہت بڑا فرق ہے جو ہم بمشکل ہی کبھی سمجھتے ہیں ۔۔ کہ ہر جگہ مساوات ہے۔ میں جنوبی ایشیا کو یہاں تقسیم کر سکتا ہوں۔ بھارت وسط میں ایک بڑا بلبلہ ہے۔ لیکن افغانستان اور سری لنکا کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ میں عرب ممالک کو تقسیم کر سکتا ہوں۔ وہ کیسے ہیں؟ وہی موسم، وہی ثقافت، وہی مذہب۔ بہت بڑا فرق۔ حتٰی کہ ہمسایوں کے درمیان بھی۔ یمن، خانہ جنگی۔ متحدہ عرب امارات، رقم جو مساویانہ طور پر بہتر انداز سے استعمال کی گئی۔ مفروضے کی طرح نہیں۔ اور اس میں ان غیر ملکی محنت کشوں کے تمام بچے بھی شامل ہیں جو ملک میں ہیں۔ اعداد و شمار اکثر آپ کے تصور سے بہتر ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اعداد و شمار بری چیز ہیں۔ اس میں ایک غیر یقینی پن کا امکان ہے، لیکن ہم یہاں فرق دیکھ سکتے ہیں: کمبوڈیا، سنگاپور۔ اعداد و شمار کی کمزوری کے مقابلے میں فرق بہت بڑے ہیں۔ مشرقی یورپ: طویل عرصے تک سوویت معیشت میں شامل رہا لیکن دس سال بعد وہ باہر نکل آئے بہت بہت مختلف۔ اور وہ لاطینی امریکا ہے۔ آج، ہمیں لاطینی امریکا میں صحت مند ملک تلاش کرنے کے لئے کیوبا نہیں جانا پڑتا۔ آئندہ چند سالوں میں کیوبا کے مقابلے میں چلی میں بچوں کی شرحِ اموات کم ہوگی۔ اور یہاں ہمارے پاس او ای سی ڈی کے زیادہ آمدنی والے ملک ہیں۔
اور ہم یہاں دنیا کا مکمل نمونہ حاصل کرتے ہیں، جو کم و بیش اس طرح کا ہے۔ اور اگر ہم اس پر نظر ڈالیں، یہ کیسا لگتا ہے ۔۔ 1960 کی دنیا، یہ آگے بڑھ رہی ہے۔ 1960۔ یہ ماؤزے تنگ ہے۔ وہ چین میں صحت لایا۔ اور پھر وہ مرگیا۔ اور پھر ڈان ژیاؤ پنگ جس نے چین کو رقم دی اور انہیں واپس مرکزی دھارے میں لایا۔ اور ہم نے دیکھا کہ کس طرح ملک مختلف سمتیں اختیار کرتے ہیں، لہٰذا اس طرح کسی بھی ملک کی مثال لینا مشکل ہے جو دنیا کا نمونہ ظاہر کر سکے۔ میں آپ کو واپس 1960 میں لانا چاہوں گا۔ میں جنوبی کوریا، جو یہ ہے، کا برازیل سے موازنہ کرنا چاہتا ہوں، میرے لئے لیبل یہاں سے ختم ہو گیا ہے۔ اور میں وہاں موجود یوگنڈا کا موازنہ کرنا چاہتا ہوں۔ اور میں اسے آگے لے جا سکتا ہوں، اس طرح۔ اور آپ کو دکھائی دے رہا ہوگا کہ جنوبی کوریا کیسے تیزی سے پیش رفت کرتا چلا جا رہا ہے، جبکہ برازیل کی رفتار کافی سست ہے۔
اور اگر ہم دوبارہ واپس جائیں اور ان کے راستے بنا دیں، اس طرح، تو آپ دوبارہ دیکھیں گے کہ ترقی کی رفتار بہت، بہت مختلف ہے اور ملک کم و بیش اسی شرح سے بڑھ رہے ہیں جیسا کہ رقم اور صحت، لیکن یوں لگتا ہے کہ پہلے امیر ہونے کی بجائے اگر آپ پہلے صحت مند ہوں تو آپ کی رفتار کہیں زیادہ تیز ہو سکتی ہے۔ اور آپ کو یہ دکھانے کے لئے، آپ متحدہ عرب امارات کے راستے پر رکھ سکتے ہیں۔ وہ یہاں سے آئے جو ایک معدنی ملک ہے۔ انہوں نے تمام تیل سے استفادہ کیا، انہوں نے رقم حاصل کر لی لیکن صحت تو سپر مارکیٹ میں نہیں خریدی جا سکتی۔ آپ کو صحت میں سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے۔ آپ کو بچوں کو اسکول میں داخل کرانا پڑتا ہے۔ آپ کو صحت کے عملے کو تربیت دینی پڑتی ہے۔ آپ کو آبادی کو تعلیم سے آراستہ کرنا ہوتا ہے۔ اور شیخ سید نے اس کام کو کافی اچھے طریقے سے سر انجام دیا۔ اور تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باوجود، وہ اپنے ملک کو یہاں اوپر لے آیا۔ لہٰذا ہمارے پاس دنیا کی کہیں زیادہ مرکزی حیثیت موجود ہے، جہاں تمام ملکوں میں ماضی کی نسبت رقم کو بہتر جگہ استعمال کرنے کا رجحان ہے۔ اب کم و بیش یہی صورتحال ہے اگر آپ ملکوں کے اوسط اعداد و شمار پر نگاہ دوڑائیں۔ وہ اس طرح ہیں۔
اوسط اعداد و شمار کا استعمال ایک خطرناک عادت ہے کیونکہ ملکوں کے درمیان بہت سے فرق پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ، اگر میں جا کر یہاں دیکھوں تو ہمیں نظر آئے گا کہ یوگنڈا آج وہاں پہنچا ہے جہاں جنوبی کوریا 1960 میں کھڑا تھا۔ اگر میں یوگنڈا کو تقسیم کردوں، تو یوگنڈا کے اندر بھی کافی فرق ہے۔ یہ یوگنڈا کے پانچ حصے ہیں۔ یوگنڈا کے امیر ترین 20 فی صد باشندے یہاں ہیں۔ غریب وہاں نیچے ہیں۔ اگر میں جنوبی افریقہ کو تقسیم کردوں، تو یہ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر میں نیچے جاؤں اور نائیجر کو دیکھوں، جہاں بھیانک قحط پڑا تھا، آخر میں، یہ اسی طرح ہے۔ نائیجر کے غریب ترین 20 فی صد وہاں ہیں، اور جنوبی افریقہ کے امیر ترین 20 فی صد وہاں ہیں، اور ہمارے پاس اس موضوع پر تبادلۂ خیال کا رجحان ہے کہ افریقہ کے لئے کیا حل ہونے چاہئیں۔ دنیا کی ہر چیز افریقہ میں موجود ہے۔ اور آپ ان پانچوں حصوں میں ایچ آئی وی [دوا] تک سب کی رسائی کے متعلق اسی حکمت عملی سے تبادلۂ خیال نہیں کرسکتے جو یہاں نیچے ہے۔ دنیا کی بہتری تناظر میں ہونی چاہیے اور اسے علاقائی سطح پر کرنا غیر متعلقہ ہے۔ ہمیں تفصیلات پر زیادہ توجہ صرف کرنی چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ طلبہ اسے استعمال کرتے ہوئے انتہائی پرجوش ہوجاتے ہیں۔
اور یہاں تک کہ مزید پالیسی ساز اور تجارتی شعبہ جات اس بات کو دیکھنا چاہیں گے کہ دنیا کیسے بدل رہی ہے۔ اب، ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ ہم اپنے پاس موجود اعداد و شمار کو آخر استعمال کیوں نہیں کرتے؟ ہمارے پاس اقوامِ متحدہ، قومی شماریاتی اداروں اور یونیورسٹیوں اور دیگر غیر سرکاری اداروں میں اعداد و شمار موجود ہیں۔ کیونکہ یہ اعداد و شمار مختلف ڈیٹا بیسز میں پوشیدہ ہیں۔ اور عوام اور انٹرنیٹ موجود ہے لیکن ہم ابھی تک اسے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پائے۔
دنیا میں بدلتی ہوئی معلومات جو ہم نے دیکھیں ان میں سرکاری امداد یافتہ شماریات شامل نہیں۔ بعض ایسے ویب صفحات ہیں، جیسا کہ یہ، لیکن وہ کچھ مواد ڈیٹا بیسز سے حاصل کرتے ہیں لیکن لوگ ان کی قیمت لگا دیتے ہیں اور ان میں احمقانہ پاس ورڈ اور بیزار کن شماریات ڈال دیتے ہیں۔ (قہقہے)۔ (تالیاں)۔
اور اس سے کام نہیں چلے گا۔ پھر، کس چیز کی ضرورت ہے؟ ہمارے پاس ڈیٹابیسز ہیں۔ آپ کو نئی ڈیٹا بیس کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ڈیزائن کے حیران کن آلات ہیں، اور ان میں نئے کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ ہم نے ایک غیر انتفاعی (نفع نہ کمانے والا) کام شروع کیا جسے ہم نے اعداد و شمار کو ڈیزائن سے منسلک کا نام دیا۔ ہم اسے فرق کا دھیان رکھنا (Gapminder) کہتے ہیں۔ جو لندن زیر زمین ریلوے سے ادھار لیا گیا ہے جہاں وہ آپ کو خبردار کرنے کے لئے لکھتے ہیں، "فرق کا دھیان رکھیں۔" چنانچہ ہمارے نزدیک فرق کا دھیان رکھنا (Gapminder) نام موزوں تھا۔ اور ہم نے وہ سافٹ ویئر لکھنا شروع کیا جو اعداد و شمار کو اس طرح منسلک کر سکتا تھا۔ اور یہ اتنا مشکل نہیں تھا۔ اس میں چند سال لگے اور ہم نے اسے فعال سطح پر تیار کر لیا ہے۔ آپ کوئی اعداد و شمار لے کر اس میں ڈال سکتے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کے بعض اداروں کے اعداد و شمار کو آزاد کر رہے ہیں۔
بعض ممالک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی ڈیٹا بیسز دنیا کے پاس جا سکتی ہیں، لیکن ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ایک تلاش کا فعل ہے۔ تلاش کا فعل جہاں ہم اعداد و شمار کی نقل کو ایک قابلِ تلاش بناوٹ میں ڈال کر اسے دنیا کے لئے پیش کر سکیں۔ اور جب ہم یہ کام کرنے لگیں تو ہم کیا باتیں سنیں گے؟ میں نے بنیادی شماریاتی اکائیوں کے متعلق بشریات (انسانیات) نگاری کی ہے۔ ہر کسی کا کہنا ہے، "یہ ناممکن ہے۔ یہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری معلومات کی تفصیل اتنی غیر معمولی ہے کہ اسے باقی چیزوں کی مانند تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ہم یہ اعداد و شمار طلبہ اور دنیا کے تاجروں کو مفت نہیں دے سکتے۔" لیکن ہم یہی تو دیکھنا چاہتے ہیں، کیا نہیں؟ سرکاری امداد سے تیار ہونے والے اعداد و شمار یہاں نیچے موجود ہیں۔ اور ہم انٹرنیٹ پر پھول کھلانا چاہتے ہیں۔ اور ان میں سے ایک اہم نقطہ انہیں قابلِ تلاش بنانا ہے اور پھر لوگ مختلف ڈیزائن آلات کے ذریعے اسے وہاں متحرک بنا سکتے ہیں۔ اور میرے پاس آپ کیلئے ایک کافی اچھی خبر ہے۔ میرے پاس اچھی خبر یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ شماریات کے موجودہ نئے سربراہ کا کہنا ہے یہ ناممکن نہیں۔ ان کا صرف یہ کہنا ہے، "ہم یہ نہیں کر سکتے۔" (قہہقے)۔ اور وہ کافی سمجھدار شخص ہے، ہے نا؟ (قہقہے)۔
چنانچہ آنے والے سالوں میں ہم اعداد و شمار میں بہت سی تبدیلیاں دیکھیں گے۔ ہم آمدنی کی تقسیم کو مکمل طور پر نئے طریقوں سے دیکھ سکیں گے۔ یہ 1970 میں چین میں آمدنی کی تقسیم ہے۔ یہ 1970 میں ریاستہائے امریکا میں آمدنی کی تقسیم ہے۔ تقریباً ان میں کوئی چیز مشترک نہیں۔ اور اس کی کیا وجہ ہے؟ اصل میں یہ ہوا ہے: کہ چین میں نمو جاری ہے، یہ اب مزید برابر نہیں رہی، اور یہ یہاں نظر آ رہی ہے، امریکا کو نظر انداز کرتے ہوئے۔ بالکل کسی بھوت کی مانند، کیا نہیں؟ (قہقہے)۔
یہ کافی خوفناک منظر ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ تمام معلومات بہت اہم ہیں۔ ہمیں واقعی اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور اسے دیکھنے کی بجائے، میں اسے فی 1,000 انٹرنیٹ صارفین کو دکھانا چاہوں گا۔ اس سافٹ ویئر میں، ہم تمام ملکوں سے باآسانی 500 کے قریب متغیرات تک رسائی کرتے ہیں۔ اس کو تبدیل کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے، لیکن خطوطِ مستقیم پر، آپ کوئی بھی متغیرہ کافی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اور اصل چیز ڈیٹابیسز کی مفت دستیابی، انہیں قابلِ تلاش بنانا، اور دوسرے کلک سے، انہیں خاکوں کی بناوٹ میں تبدیل کرنا ہے جہاں آپ انہیں آسانی سے سمجھ لیں۔ اب، ماہرینِ شماریات اسے پسند نہیں کرتے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس سے حقیقت ظاہر نہیں ہوگی؛ ہمارے پاس شماریاتی، تجزیاتی طریقے ہونا ضروری ہیں۔ لیکن یہ مفروضہ قائم کرنے کی بات ہے۔
میں اب دنیا کے ساتھ رابطہ ختم کرتا ہوں۔ وہ، انٹرنیٹ آ رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کی تعداد یوں بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ فی کس مجموعی ملکی پیداوار ہے۔ اور یہ نئی ٹیکنالوجی کی آمد آمد ہے، لیکن حیران کن حد تک یہ ملکوں کی معیشت میں کیسے اپنی جگہ بنائے گی۔ اسی وجہ سے 100 ڈالر کا کمپیوٹر اتنا اہم ہوگا۔ لیکن یہ ایک اچھا رجحان ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دنیا چپٹی ہوتی جار ہی ہو۔ کیا نہیں؟ یہ ملک معیشت سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں اور آئندہ سال اس پر مزید کام کرنا بہت دلچسپ ہوگا کیونکہ میں چاہتا ہوں آپ سرکاری امداد سے حاصل ہونے والے تمام اعداد و شمار پر یہ کام کریں۔ آپ کا بہت شکریہ۔ (تالیاں)
Got an idea, question, or debate inspired by this talk? Start a TED Conversation, or join one of these:
آپ نے اس طرح پیش کی گئی معلومات کو کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ ڈراما اور کھیل کود کی نشر و اشاعت کی فوری ضرورت کے ساتھ ساتھ اعداد و شمار کے ماہر ہینس روزلنگ "ترقی پذیر دنیا" سے متعلق اساطیر کا انکشاف کر رہے ہیں۔
In Hans Rosling’s hands, data sings. Global trends in health and economics come to vivid life. And the big picture of global development—with some surprisingly good news—snaps into sharp focus. Full bio »
Comments? Contact us.
I have shown that Swedish top students know statistically significantly less about the world than the chimpanzees.” (Hans Rosling)
18:57 Posted: Jun 2007
Views 1,838,443 | Comments 204
16:51 Posted: May 2008
Views 342,641 | Comments 100
Just follow the guidelines outlined under our Creative Commons license.
This comment will be attributed to . Not ? Sign out.