گذشتہ ہفتے میں نے فاؤنڈیشن کے کام کے بارے میں ایک خط لکھا، جس میں میں نے کچھ مسائل کا ذکر کیا۔ وارن بوفے نے سفارش کی تھی کہ مجھے ایسا کرنا چاہیے ۔۔ اور ایمانداری سے یہ بتانا چاہیے کہ کیا ٹھیک جارہا ہے اور کیا نہیں، اور اسے ہر سال کیا جانے والا ایک کام بنانا چاہیے۔ اس وقت میرا ایک ہدف یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو یہ مسائل حل کرنے کی طرف راغب کرسکوں، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے کچھ انتہائی اہم مسائل ہیں جن پر قدرتی انداز میں کام نہیں ہورہا۔ یعنی، مارکیٹ متوجہ نہیں کرپارہی سائنسدانوں کو، ابلاغ عامہ کو، دانشوروں کو، حکومتوں کو، کہ وہ بہتر طور پر کام کریں۔ جبکہ انہی باتوں پر صرف تھوڑی سی توجہ دینے سے اور ایسے قابل افراد کو شامل کرنے سے جو دوسروں کو بھی متوجہ کرسکیں ہم وہ کامیابی حاصل کرسکتے ہیں جسکی ہمیں ضرورت ہے۔
تو، آج کی صبح میں ان مسائل میں سے دو پر بات کروں گا اور یہ بتاؤں گا کہ یہ مسائل اس وقت کس سطح پر ہیں۔ مگر شروع کرنے سے پہلے میں یہ تسلیم کرنا چاہوں گا کہ میں ایک امید پرست شخص ہوں۔ کنتا بھی مشکل مسئلہ کیوں نہ ہو، میں سمجھتا ہوں کہ اسے حل کیا جاسکتا ہے۔ اور میرے ایسا سمجھنے کی ایک وجہ ماضی پر ایک نظر ڈالنا بھی ہے۔ گذشتہ صدی کے دوران، انسان کی اوسط عمر دوگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ ایک اور تفصیل، جو شاید میری پسندیدہ ہے، اور وہ ہے بچپنے کی اموات کے اعداد وشمار 1960 کی دہائی تک، 110 ملین بچے پیدا ہوتے تھے اور ان میں سے 20 ملین بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہوجاتے تھے۔ جبکہ پانچ سال قبل 135 ملین بچے پیدا ہوئے ۔۔ یعنی پہلے سے بھی زیادہ ۔۔ اور ان میں سے صرف 10 ملین بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے فوت ہوئے۔ یعنی، بچوں کی اموات کی شرح دوگنی سے بھی کم ہوگئی۔ یہ ایک زبردست چیز ہے۔ اس طرح بچائی جانے والی ہر ہر زندگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
اور اسکی سب سے اہم وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ آمدنیوں میں اضافہ ہورہا تھا بلکہ چند اہم دریافتوں اور کارناموں کا بھی اس میں بڑا کردار رہا: ویکسینوں کا وسیع پیمانے پر استعمال ہونا۔ مثال کے طور پر، خسرہ کے وجہ سے چار ملین اموات ہوتی تھیں ابھی 1990 کی دہائی تک اور اب یہ اموات 400،000 سے بھی کم رہ گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم واقعی تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ ہمارا اگلا ہدف اس 10 ملین کو بھی پھر سے آدھا کرنا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ 20 سالوں کے اندر ایسا ہونا بالکل ممکن ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ صرف چند بیماریاں ہی تو ہیں جو ان زیادہ تر اموات کا سبب بنتی ہیں: اسہال، نمونیہ اور ملیریا۔
تو اب ہم اس مسئلے پر پہنچ گئے ہیں جو میرا آج کا پہلا موضوع ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم اس جان لیوا بیماری کو کیسے ختم کرسکتے ہیں جو مچھروں سے پھیلتی ہے؟
تو، آخر اس بیماری کی تاریخ کیا ہے؟ یہ بیماری ہزاروں سال سے ایک مصیبت بنی ہوئی ہے۔ درحقیقت، جب ہم جینیاتی کوڈ پر ایک نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں صرف یہی بیماری نظر آتی ہے جس کے لیے افریقہ کے باسیوں نے ایسی کئی چیزیں تیار کرلی تھیں جن سے ملیریا سے ہونے والی اموات سے واقعی بچا جاسکتا تھا۔ 1930 کی دہائی میں ان اموات کی تعداد سب سے اوپر یعنی پانچ ملین سے بھی اوپر پہنچ گئی تھی۔ جو کہ واقعی انتہائی زیادہ تھی۔ اور اس وقت یہ بیماری پوری دینا میں پھیلی ہوئی تھی۔ یہ انتہائی خوفناک بیماری امریکہ میں بھی تھی اور یورپ میں بھی۔ 1900 کی دہائی تک تو لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ آخر اس بیماری کا سبب کیا ہے، جب تک کہ ایک برطانوی فوجی نے یہ پتہ نہیں چلا لیا کہ اسکی وجہ مچھر ہیں۔ بہرحال، یہ ہر جگہ تھی۔ تب دو اقدامات ایسے کیے گئے جن سے ایسی اموات کو کم کرنے میں کافی مدد ملی۔ ایک تو تھا DDT سے مچھروں کو مارا جانا۔ اور دوسرا کونین یا کونین والی دیگر ادویات کے ذریعے مریضوں کا علاج کرنا۔ یہ وہ اقدامات تھے جنکی وجہ سے ایسی اموات کی شرح کافی کم ہوگئی۔
لیکن،افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہوا یہ یہ بیماری صرف تمام استوائی خطوں سے ختم کی گئی، جہاں کہ سب امیر ممالک واقع ہیں۔ تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ: 1900 میں یہ بیماری ہر جگہ موجود ہے۔ 1945 آیا، اور یہ زیادہ تر جگہوں میں موجود ہے۔ 1970 تک امریکہ اور یورپ کے زیادہ تر علاقوں سے اسکا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ 1990 میں ہم نے اسے زیادہ تر شمالی علاقوں سے ختم کردیا ہے۔ اور ابھی حال ہی میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بیماری خط اُستوا کے آس پاس موجود ہے۔
جس سے ہم اس پہیلی تک پہنچے کہ چونکہ یہ بیماری اب صرف غریب ممالک تک محدود رہ گئی ہے، اسلیے اب اس پر زیادہ سرمایہ کاری نہیں کی جارہی۔ مثال کے طور پر، گنج دور کرنے کی ادویات پر زیادہ رقم خرچ کی جارہی ہے بنسبت اس رقم کے جو ملیریا کے خاتمے کےلیے خرچ کی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گنجا ہونا ایک بہت ہی ڈراؤنی بات ہے، (قہقہہ) اور اس میں امیر افراد مبتلا ہوتے ہیں۔ تب ہی تو اسے ترجیح دی جاتی ہے۔
لیکن، ملیریا ۔۔ ملیریا سے ہونے والی سالانہ ایک ملین اموات بھی اسکے جان لیوا اثرات کو پوری طرح بیان نہیں کرسکتیں۔ کسی ایک لمحے میں 200 ملین سے بھی زیادہ افراد اس میں مبتلا ہیں۔ جسکا مطلب یہ ہوا کہ آپ ان علاقوں میں معاشی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے کیونکہ اس سے کام کی رفتار پر کافی برا اثر پڑتا ہے۔ بہرحال، یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ملیریا مچھروں سے پھیلتی ہے۔ میں اپنے ساتھ کچھ مچھر لایا ہوں، تاکہ آپ بھی انکے تجربے سے گذرسکیں۔ ہم انہیں ہال میں اڑنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ (قہقہہ) اسکی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ صرف غریب لوگ ہی انکا مزہ چکھیں۔ (قہقہہ) (تالیاں) یہ مچھر جراثیم زدہ نہیں ہیں۔
ہم کچھ چیزیں بھی لائے ہیں۔ ہمارے پاس مچھردانیاں بھی ہیں۔ اور مچھردانی یقیناً ایک بہت اچھی چیز ہے۔ اسکا ایک بہت اچھا فائدہ تو یہ ہے کہ ماں اور اسکا بچہ دونوں رات کو مچھر دانی کے اندر سو سکتے ہیں، تاکہ وہ مچھر جو رات کو کاٹتے ہیں ان تک نہ پہنچ پائیں۔ اور جب آپ DDT کا اسپرے گھر کے اندر کرتے ہوں اور ساتھ ہی مچھردانی بھی استعمال کرتے ہوں تو آپ اموات میں 50 فیصد کمی کرسکتے ہیں۔ اور یہ کام اب بہت سے ممالک میں ہوچکا ہے۔ یہ دیکھ کر بےحد خوشی ہوتی ہے۔
لیکن پھر بھی ملیریا کے بارے ہمیں بہت محتاط رہنا ہوگا ۔۔ کیونکہ اسکا جرثومہ بھی ارتقائی منازل طے کرتا ہے اور مچھر بھی، جسکی وجہ سے ماضی میں ہم نے جتنے بھی اقدامات اور علاج دریافت کیے وہ سب بتدریج غیرمؤثر ہوچکے ہیں۔ تو یوں ہمارے پاس بس دو ہی طریقے رہ جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی ملک میں میں پورے وسائل کے ساتھ اور صحیح لائحہ عمل لے کر جاتے ہیں، اورآپ اپنا کام پورے جذبے سے کرتے ہیں، تو آپ یقیناً مقامی طور پر اس بیماری کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ اور یہی وہ موقع ہوگا جہاں ہم نے ملیریا کے نقشے کو سکڑتا ہوا دیکھا تھا۔ یا، اگر آپ نیم دلی سے وہاں جاتے ہیں، تو ایک خاص مدت کے لیے تو آپ بیماری کی شدت میں کمی کرپائیں گے، لیکن بالآخر یہ اقدامات بھی غیرمؤثر ہوجائیں گے، اور اموات کی شرح پھر سے اوپر چلی جائے گی۔ اور دنیا اس چکر سے پہلے بھی گذر چکی ہے کہ جب اس نے پہلے توجہ دی اور پھر بےتوجہی کی۔
اب ہماری کوششوں کا رخ بہتری کی جانب ہے۔ مچھردانیوں کے لیے سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ نئی ادویات کے لیے تحقیقات بھی جاری ہیں۔ ہماری فاؤنڈیشن نے ایک نئی ویکسین کا ذمہ لیا ہے جو اب تیسری سطح کے تجرباتی دور میں داخل ہورہی ہے جو آئندہ دو ماہ میں شروع ہوگا۔ اور اگر وہ مؤثر ثابت ہوئی تو ہم دو تہائی سے بھی زیادہ زندگیاں بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یعنی، اب ہمیں نئی ادویات اور اقدامات دستیاب ہو جائیں گے
لیکن صرف یہ چیز ہمیں اپنا روڈ میپ نہیں دے پائے گی۔ کیونکہ اس بیماری سے نجات پانے کا روڈ میپ بہت سے عوامل کا حامل ہے۔ اس میں مفادِ عامہ والوں کو اپنا سرمایہ بڑھانے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ کام ہوتا نظر بھی آئے، اور تاکہ کامیابیوں کے قصّے بھی بیان کیے جاسکیں۔ اس میں سماجی سائنسدان بھی شامل ہیں، تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ کیسے مچھر دانیوں کا استعمال صرف 70 فیصد افراد تک محدود نہ رہے، بلکہ 90 فیصد تک بڑھ جائے۔ ہمیں ریاضی دانوں کی بھی ضرورت ہے کہ وہ آئیں اور اپنی قابلیت کے ذریعے اس کام میں ہماری مدد کریں، اور مانٹے کارلو جیسے طریقوں سے یہ جانیں کہ یہ اقدامات اور ادویات کیسے باہم مل کر کام کرسکتے ہیں۔ اور یقیناً ہمیں ادویات کے ماہرین کی بھی ضرورت ہے جو ہمیں اہنی مہارت سے نوازیں۔ ہمیں امیر حکومتوں کی بھی ضرورت ہے کہ وہ بہت سخاوت سے اس کام کے لیے ہمیں امدادی رقوم فراہم کریں۔ اور جوں جوں یہ سب عوامل ملیں گے، تو مجھے پوری امید ہے کہ ہم ملیریا کا مکمل خاتمہ کرنے میں کامیاب رہیں گے۔
اب مجھے ایک دوسرے سوال پر بات کرنے کی اجازت دیجیے، جو ایک کافی مختلف سوال ہے، مگر میرے خیال میں اتنا ہی اہم ہے۔ اور وہ سوال ہے: آپ ایک استاد کو کس طرح عظیم بنا سکتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال لگتا ہے جس پر لوگ کافی وقت صرف کرسکتے ہیں، اور ہم یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن اسکا جواب یہ ہے کہ، درحقیقت، ہم نہیں سمجھتے۔ آئیے ہم یہاں سے شروع کریں کہ یہ بات کیوں اہم ہے۔ یقیناً، یہاں موجود سب افراد کو، میں شرط لگا سکتا ہوں، کچھ عظیم اساتذہ ملے ہونگے۔ ہم سب نے بہترین تعلیم حاصل کی ہے۔ اور ہمارا آج یہاں موجود ہونا اسی وجہ کا ایک حصہ ہے، ہماری کامیابی کی وجہ کا ایک حصہ۔ میں بھی یہ کہہ سکتا ہوں، حالانکہ میں نے کالج ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ کہ مجھے بھی عظیم اساتذہ ملے۔
در حقیقت، امریکہ میں تدریسی نظام کافی اچھا کام کرتا رہا ہے۔ چند مخصوص جگہوں پر کافی اچھے اساتذہ موجود ہیں۔ چنانچہ 20 فیصد طلبہ کو اچھی تعلیم ملتی رہی ہے۔ اور یہ 20 فیصد پوری دینا میں بہترین شمار کیے جاتے رہے ہیں، اگر آپ انکا موازنہ دوسرے 20 فیصد سے کریں تو۔ اور انہوں نے سوفٹ ویئر اور بایو ٹیکنالاجی کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے اور امریکہ کو سب سے آگے رکھا ہے۔
لیکن، اب ان 20 فیصد کی گرفت پہلے کی بنسبت کمزور پڑرہی ہے، اور اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات وہ تعلیم ہے جو بقایا لوگوں کو دی جارہی ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ کمزور رہی ہے؛ بلکہ اب کمزور تر ہوتی جارہی ہے۔ اور اگر آپ معیشت کو دیکھیں تو وہ اب یقیناً صرف ان افراد کو مواقع فراہم کررہی ہے جن کے پاس بہتر تعلیم ہے۔ اور ہمیں اس میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ہمیں یہ تبدیلی اس لیے لانی ہوگی تاکہ لوگوں کو برابر مواقع مل سکیں۔ ہمیں یہ تبدیلی اس لیے لانی ہوگی تاکہ ملک مضبوط ہو اور ہمیشہ کی طرح سب سے آگے رہے ان چیزوں میں جنکا تعلق اعلی تعلیم سے ہے، مثلاً سائنس اور ریاضی۔
جب میں نے سب سے پہلے یہ اعداد و شمار دیکھے تو مجھے یہ جان کر سخت صدمہ ہوا کہ معاملات اتنے خراب جارہے ہیں۔ 30 فیصد سے زیادہ بچے ہائی اسکول بھی مکمل نہیں کر پاتے۔ اور یہ بات طویل عرصے سے چھپائی جاتی رہی ہے کیونکہ وہ لوگ ہمیشہ تعلیم چھوڑنے والوں کی شرح کو صرف ایک عدد کی نظر سے دیکھتے ہیں یعنی کتنوں نے سینیئرسال شروع کیا اور پھراس کا موازنہ اس عدد سے کرتے ہیں کہ کتنوں نے سینیئرسال مکمل کرلیا۔ کیونکہ وہ اس بات کا حساب نہیں رکھ رہے تھے کہ بچے اس سے پہلے کہاں تھے۔ لیکن تعلیم چھوڑنے کا یہ عمل اس سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ انہیں تعلیم چھوڑنے والوں کی بیان کردہ شرح بڑھانی پڑی جیسے ہی اسکا حساب کیا گیا 30 فیصد سے بھی زیادہ تک۔ اقلیتی بچوں کے لیے یہ شرح 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اور چاہے آپ نے ہائی اسکول سے گریجویشن لے بھی لے، لیکن آپ کم آمدنی والوں میں شامل ہیں، تو آپکے کالج ڈگری مکمل کرنے کا امکان صرف 25 فیصد ہے۔ اگر امریکہ میں آپ کم آمدنی والوں میں شامل ہیں، تو آپکے جیل جانے کا امکان آپکے چارسالہ ڈگری حاصل کرنے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اور یہ بات بالکل بھی انصاف پر مبنی نہیں لگتی۔
تو، آخر آپ اپنے نظامِ تعلیم کو کیسے بہتر بنائیں؟
تو سنیے، ہماری فاؤنڈیشن نے گذشتہ نو برسوں کے دوران اس میں کافی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہمارے بہت سے لوگ اس پر کام کررہے ہیں۔ ہم نے چھوٹے اسکولوں پر کام کیا ہے، ہم نے تعلیمی وظائف جاری کیے ہیں، ہم نے لائبریریوں پر کام کیا ہے۔ ان سب کاموں کا کافی اچھا اثر ہوا ہے۔ لیکن جتنا ہم اس پر غور کرتے ہیں، اتنا ہی ہمیں احساس ہوتا ہے کہ عظیم اساتذہ کا ہونا سب سے اہم اور کلیدی چیز ہے۔ ہم نے کچھ ایسے لوگوں سے رابطہ کیا جو پڑھ رہے تھے اور پوچھا کہ اساتذہ کے درمیان کتنا فرق ہے، مثلاً، سب سے اوپرکی کوارٹائل (یعنی پچیس فیصد) ۔۔ جو سب سے بہترین ہوتی ہے ۔۔ اور سب سے نیچے کی کوارٹائل کے درمیان۔ ایک اسکول کے اندر ان میں کتنا فرق ہے اور دوسرے اسکولوں کے درمیان کتنا؟ اور جواب یہ ملا کہ یہ فرق انتہائی ناقابلِ یقین ہے۔ اساتذہ میں اوپری کوارٹائل والا استاد تو اپنی کلاس کی کارکردگی بڑھا لے گا ۔۔ ٹیسٹ اسکوروں کی بنیاد پر ۔۔ کسی ایک سال میں 10 فیصد سے بھی زیادہ۔ تو اسکا کیا مطلب ہوا؟ اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر پورے امریکہ میں دو سال تک، اوپر والے کوارٹائل کے اساتذہ ہوں، تو ہمارے اور ایشیا کے درمیان یہ فرق ختم ہوجائے گا۔ اور چار سال کے اندر ہم پوری دنیا کو حیران کردیں گے۔
تو، یہ بہت سیدھی سادی بات ہے۔ ہمیں صرف یہ ٹاپ کوارٹائل والے اساتذہ چاہئیں۔ اورپھر ہم کہیں گے، "ہاں، ہمیں ان لوگوں کو انعام سے نوازنا چاہیے، ہمیں ان لوگوں کی قدر کرتے ہوئے انہیں اس نظام میں شامل رکھنا چاہیے۔ ہمیں معلوم کرنا چاہیے کہ یہ لوگ کیا کررہے ہیں اور انکی مہارت کو دوسروں تک منتقل کرنا چاہیے۔" مگر میں آپکو بتاؤں کہ فی الحال ایسا ہرگز نہیں ہورہا ہے۔
آخر اس ٹاپ کوارٹائل کے خصائل کیا ہیں؟ یہ لوگ دیکھنے میں کیسے نظر آتے ہیں؟ شاید ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت عمر رسیدہ اساتذہ ہونگے۔ جبکہ اسکا جواب نفی میں ہے۔ جوں ہی کسی شخص نے تین سال تک تدریس کا کام انجام دے دیا تو اسکا پڑھانے کا معیار پھر کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ فرق بہت ہی کم، بہت معمولی ہوتا ہے۔ شاید آپ یہ سمجھتے ہوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنکے پاس ماسٹرز کی ڈگریاں ہونگی۔ اور انہوں نے آگے پڑھ کر اپنی ماسٹرز آف ایجوکیشن بھی حاصل کرلی ہوگی۔ یہ چارٹ چار مختلف عوامل دکھا رہا ہے اور یہ بتا رہا ہے کہ وہ تدریسی معیارکو کتنا واضح کرتے ہیں۔ سب سے نیچے والی چیز، جو کہ بتا رہی ہے کہ کوئی بھی اثر نہیں پڑتا، وہ ایک ماسٹرز ڈگری ہے۔
تو، تنخواہوں کے نظام کے موجودہ طریقہ کار کے مطابق دو امور کو نوازا جاتا ہے، پہلی تو سینیارٹی ہے۔ کیونکہ اس سے آپکی تنخواہ بڑھتی ہے اور آپ اپنی پینشن پر اختیار بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ دوسری چیز ان لوگوں کو اضافی پیسے دینا ہے جنہوں نے اپنی ماسٹرز ڈگری حاصل کرلی ہے۔ مگر اس کا تعلق کسی بھی طور پہ ایک بہتر استاد بننے سے نہیں ہے۔ "ٹیچ فار امریکہ" نامی پروگرام کا بہت کم اثر ہوا ریاضی کے اساتذہ کے لیے ریاضی میں میجر کرنا کافی نمایاں اثر رکھتا ہے۔ مگر، اس سے بھی زیادہ اہم آپکی ماضی کی کارکردگی ہے۔ کچھ لوگ تو اس کام میں بہت ہی اچھے ہیں۔ اور ہم نے تقریباً کچھ بھی نہیں کیا ہے اسکا مطالعہ کرنے میں کہ آخر وہ ہے کیا اور اس سے استفادہ کرنے اور اسکی تقلید کرنے میں اپنی اوسط قابلیت کو بڑھانے کے لیے ۔۔ اور جن افراد کے پاس یہ قابلیت ہے انہیں نظام میں شامل رکھنے کے لیے۔
ہوسکتا ہے آپ پوچھیں: "کیا اچھے اساتذہ رکتے ہیں اور برے اساتذہ چلے جاتے ہیں؟" اسکا جواب یہ ہے کہ، اوسطاً، جو اساتذہ کچھ بہتر ہوتے ہیں وہ نظام کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اور اس نظام میں لوگوں کے داخل ہونے اور اسے چھوڑنے کی شرح بہت زیادہ ہے۔
تو، اس وقت چند جگہیں ہے ۔۔ بہت ہی کم ۔۔ جہاں اچھے اساتذہ تیار کیے جارہے ہیں۔ جسکی ایک اچھی مثال چارٹر اسکولوں کا ایک مجموعہ ہے جو KIPP کہلاتا ہے۔ KIPP کے معنی ہیں "علم ہی طاقت ہے" یہ ایک حیرت انگیز چیز ہے۔ انکے 66 اسکول ہیں ۔۔ زیادہ تر مڈل اسکول، اور کچھ ہائی اسکول بھی ۔۔ اور وہاں زبردست تدریس ہورہی ہے۔ وہ غریب ترین طلبہ کو لیتے ہیں، اور انکے ہائی اسکول کے 96 فیصد گریجویٹ چارسالہ کالج میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اور ان اسکولوں کی روحِ رواں اور ماحول عام پبلک اسکولوں سے بہت مختلف ہے۔ وہ اجتماعی تدریس کررہے ہیں، اور اپنے اساتذہ کو مستقل بہتر بناتے رہتے ہیں۔ وہ ٹیسٹ اسکوروں کے اعداد و شمار لیتے ہیں، اور اپنے اساتذہ سے کہتے ہیں، "جناب، آپ ہی اتنی بہتری کا باعث بنے ہیں۔" وہ مستقل اپنے اساتذہ کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
جب آپ خود جاکر انکی کسی کلاس میں بیٹھیں، تو پہلے تو آپ کو بہت عجیب لگے گا۔ جب میں وہاں بیٹھا تو سوچنے لگا، "یہاں کیا ہورہا ہے بھئی؟" ٹیچر اِدھر اُدھر بھاگ رہا تھا، اور فضا بہت پُرجوش تھی۔ میں نے سوچا، "شاید میں کسی سپورٹس ریلی یا ایسی ہی کسی جگہ آگیا ہوں۔ "آخر ہو کیا رہا ہے؟" اور ٹیچر مستقل اس بات پر نظر رکھے ہوئے تھا کہ کونسے بچے توجہ نہیں دے رہے ہیں، اور کونسے بچے بور ہورہے ہیں، وہ بچوں کو جلدی جلدی بلا رہا تھا، اور بورڈ پر چیزیں لگا رہا تھا۔ وہ ایک بہت ہی پرجوش ماحول تھا، کیونکہ خصوصی طور پر ان مڈل اسکول والے سالوں میں ۔۔ پانچویں سے آٹھویں گریڈ تک ۔۔ لوگوں کو اس طرح مصروف رکھنا اور لہجہ اس طرح کا رکھنا کہ کلاس میں موجود ہر شخص کو پوری توجہ دینی پڑے، اور کسی کو بھی اس بات کا موقع نہ دینا کہ اسکا مذاق اڑائے یا کسی ایسے طالبعلم کی جگہ لے جو وہاں نہیں رہنا چاہتا۔ اس میں سب کو شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ اور KIPP ایسا کررہی ہے۔
اسکا موازنہ ایک عام اسکول سے کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ سنیے، ایک عام اسکول میں اساتذہ کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ کتنے اچھے ہیں۔ ایسے اعداد و شمار جمع ہی نہیں کیے جاتے۔ استاد کے معاہدے میں، یہ بات محدود ہوتی ہے کہ پرنسپل کتنی بار کلاس روم میں آسکتا ہے ۔۔ کبھی کبھار تو سال میں صرف ایک مرتبہ۔ اور اسکے لیے بھی پہلے ایک پیشگی نوٹس دینا پڑتا ہے۔ ایک ایسی فیکٹری کی مثال لیجیے جہاں مزدور کام کرتے ہوں، اور ان میں سے کچھ فالتو کاموں میں مشغول ہوں اور انتظامیہ سے کہا جائے، "جناب عالی، آپ یہاں سال میں صرف ایک مرتبہ آسکتے ہیں، لیکن اسکے لیے آپ ہمیں پہلے سے بتائیں گے، کیونکہ شاید ہم واقعی آپکو بےوقوف بنا دیں، اور آپکی موجودگی کے اس تھوڑے سے وقت میں اچھا کام کرکے دکھا دیں۔"
حد تو یہ ہے کہ جو استاد بہتری لانا بھی چاہتا ہے اسکے پاس ایسا کرنے کے وسائل و آلات نہیں ہیں۔ انکے پاس ٹیسٹ اسکور نہیں ہیں، اور ساری کوششیں اعدادوشمار کو چھپانے پر صرف کی جارہی ہیں۔ مثال کے طور پر، نیویارک نے ایک قانون بنایا جو کہتا ہے کہ ٹیچرامپروومینٹ ڈیٹا استعمال کے لیے فراہم نہیں کیا جاسکے گا اساتذہ کی ملازمت کو مستقل کرنے کے فیصلے کے لیے۔ یہ تو ایسا ہے جیسے ہم مخالف سمت میں کام کررہے ہوں۔ لیکن پھر بھی میں اس بارے میں پُرامید ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ کچھ نمایاں کام ایسے ہیں جو ہم ضرور کرسکتے ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ کہ بہت ساری ٹیسٹنگ کی جارہی ہے، اور اس سے ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اور اس سے ہمیں یہ سمجھ بھی آرہی ہے کہ کون اچھا کام کررہا ہے، تاکہ ہم انہیں بلائیں، اور ان سے سیکھیں کہ انکا طریقہ کار کیا ہے۔ ظاہر ہے، ڈجیٹل وڈیو اب کافی سستی ہے۔ کلاس روم میں چند کیمرے لگانا اور یہ بتا دینا کہ ہر چیز مستقل ریکارڈ کی جارہی ہے سارے پبلک اسکولوں کے لیے ایک بہت قابلِ عمل طریقہ ہے۔ تاکہ ہر چند ہفتوں کے بعد اساتذہ مل بیٹھیں اور کہیں،" اوکے، یہ ایک چھوٹا سا کلپ اس بارے میں ہے کہ میں نے کونسا کام اچھا کیا۔ اور یہ چھوٹا سا کلپ اس بارے میں کہ مجھ سے کہاں کوتاہی ہوئی۔ اب آپ مشورہ دیں ۔۔ کہ جب اس بچے نے شرارت کی، تو مجھے اسکے ساتھ کیا کرنا چاہیے تھا؟" اور اس طرح وہ سب مل بیٹھ کر ان مسائل پر غوروفکر کرسکتے ہیں۔ آپ سب سے بہترین اساتذہ لے سکتے ہیں اور ان پر اپنی آرأ دے سکتے ہیں، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کونسا استاد کوئی خاص مضمون پڑھانے کے لیے موزوں ترین ہے۔
آپ وہ بہترین کورس حاصل کرکے انہیں فراہم کرسکتے ہیں تاکہ ایک بچھ باہر جاکر بھی فزکس کے کورس کا مشاہدہ کرسکے، اور اس سے سیکھ سکے۔ اگر آپکے پاس کوئی ایسا بچہ ہے جو پیچھے رہ گیا ہو، تو آپ کو پتہ ہوگا کہ آپ اسے وہ وڈیو دے کر اسے بار بار دیکھنے اور اسکا مطلب سمجھنے کا کہہ سکتے ہیں۔ اور در حقیقت، یہ مفت کورس صرف انٹرنیٹ پر ہی دستیاب نہیں ہونگے، بلکہ آپ انکی DVDs بھی بنا سکتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ دستیاب رہیں، اور جس کسی کے پاس بھی ڈی وی ڈی پلیئر ہو وہ بہترین اساتذہ کے ان اسباق سے ہر وقت استفادہ کرسکتا ہے۔ اور اسکو ایک آجرانہ نظام کی شکل دے کر ہم اور بھی بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔
اب تو KIPP کے متعلق ایک کتاب بھی دستیاب ہے ۔۔ یعنی وہ جگہ جہاں یہ سب کچھ عملی طور پر کیا جارہا ہے ۔۔ یہ کتاب ایک اخباری رپورٹر جے میتھیوز نے لکھی ہے ۔۔ اور اسکا عنوان ہے، "ورک ہارڈ، بی نائس۔" میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ اس سے ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ ایک اچھا استاد کیا کرتا ہے۔ میں یہاں موجود سب لوگوں کو یہ کتاب مفت میں بھیج دوں گا۔ (تالیاں)
تو، ہم تعلیم پر کافی پیسہ خرچ کرتے ہیں، اور میں واقعی یہ سمجھتا ہوں کہ تعلیم کی درستگی سب سے اہم ترین کام ہے تاکہ ہمارے ملک کا مستقبل مضبوط ہو، جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔ اصل میں ہمارے پاس بحالی نظام کے بل میں ایک چیز ہے ۔۔ جو کہ کافی دلچسپ ہے ۔۔ اسکے ہاؤس ورژن میں ان ڈیٹا سسٹمز کے لیے واقعی رقوم رکھی گئیں تھیں، اور اسے سینیٹ بھی لے جایا گیا تھا کیونکہ ایسے افراد اب بھی موجود ہیں جو ان معاملات سے خوفزدہ ہیں۔
لیکن پھر بھی ۔۔ میں پُرامید ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ لوگ اب اسکی اہمیت کا احساس کررہے ہیں، اور اگر ہم اسے صحیح طور پہ کریں تو اس سے لاکھوں زندگیوں میں کافی فرق لایا جاسکتا ہے۔ میرے پاس بس ان دو مسائل پر ہی گفتگو کا وقت تھا۔ لیکن اور بھی بہت سے ایسے مسائل موجود ہیں ۔۔ جیسے کے ایڈز، نمونیا ۔۔ میں دیکھ سکتا ہوں کہ آپ لوگ کافی جوش میں آرہے ہیں، محض ان چیزوں کے ذکر سے۔ اور ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جو وسائل اور قابلیت درکار ہیں انکا دائرہ بہت وسیع ہے۔ آپ بہتر جانتے ہیں کہ موجودہ نظام یہ سب خودبخود ہونے نہیں دے گا۔ حکومتیں ان چیزوں کو قدرتی طور پر اور صحیح طریقے سے نہیں لیتیں۔ نجی شعبہ بھی اپنے وسائل ان کے لیے خود بخود فراہم نہیں کرتا۔
چنانچہ، اسکے لیے آپ جیسے قابل افراد کو آگے آنا ہوگا تاکہ آپ ان چیزوں کا مطالعہ کریں، اور دیگر لوگوں کو بھی ان میں شامل کریں ۔۔ اور یقیناً آپ انکا حل نکالنے میں کافی مددگار ثابت ہورہے ہیں۔ اور تبھی تو، میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بہت سے اچھے نتائج برآمد ہونگے۔
You can share this video by copying this HTML to your clipboard and pasting into your blog or web page. This video will play with subtitles.
You either have JavaScript turned off or have an old version of the Adobe Flash Player. To view this rating widget you
need to get the latest Flash player.
If your browser allows only "trusted sites" to execute Javascript, you should add the "googleapis.com" domain to your whitelist to allow our Flash detection to work properly.
Got an idea, question, or debate inspired by this talk? Start a TED Conversation.
خدمتِ خلق کے ایک اچھوتے طریقے پر عمل کرتے ہوئے بل گیٹس دنیا کے بڑے بڑے مسائل میں سے چند ایک کو حل کرنے کے بارے میں کافی پُرامید ہیں۔ 18 منٹ کی اپنی ایک پُرجوش، اور ساتھ ہی پُرلطف، تقریر میں وہ ہم سے دو بڑے سوالات پر غور کرنے کا کہتے ہیں اور یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ہم ان سوالات کا جواب کیا دیں گے۔
A passionate techie and a shrewd businessman, Bill Gates changed the world once, while leading Microsoft to dizzying success. Now he's set to do it again with his own style of philanthropy and passion for innovation. Full bio »
Translated into Urdu by Sohail Moghal
Reviewed by Abbas Hussain
Comments? Please email the translators above.
12:15 Posted: Mar 2009
Views 334,870 | Comments 53
16:41 Posted: Jan 2007
Views 523,969 | Comments 381
25:50 Posted: Jul 2006
Views 223,898 | Comments 43
Just follow the guidelines outlined under our Creative Commons license.
This comment will be attributed to . Not ? Sign Out.