میں نے وہ سلائیڈ شو پیش کیا ہے جو میں نے یہاں دو سال پہلے تقریباً 2,000 بار پیش کیا ہے۔ آج صبح میں ایک مختصر سلائیڈ شو پیش کر رہا ہوں جو کہ میری جانب سے پہلی بار پیش کیا جا رہا ہے، چنانچہ ۔۔ یہ اسی طرح ہے ۔۔ مجھے بار کو اوپر کرنے کی خواہش ہے نہ ضرورت، میں دراصل بار کو نیچے کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کیونکہ اس سیشن کے چیلنج پر پورا اترنے کی کوشش کرنے کے لئے میں نے اسے ملا کر بے ڈھنگا بنا دیا ہے۔
مجھے کرن آرمسٹرانگ کی وہ شاندار پیشکش یاد آ رہی ہے کہ مذہب کو اگر صحیح طور سے سمجھا جائے تو وہ عقیدے کے متعلق نہیں بلکہ رویے کے متعلق ہوتا ہے۔ شاید ہمیں امید پرستی کے متعلق بھی یہی بات کہنی چاہیے۔ ہم امید پرست بننے کی جرات کیسے کر سکتے ہیں؟ امید پرستی کو بعض اوقات ایک عقیدہ، ایک دانشوارانہ کیفیت سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ مہاتما گاندھی کی یہ بات بہت مشہور ہے، "آپ کو وہ تبدیلی خود بن جانا چاہیے جسے آپ دنیا میں دیکھنے کے خواہاں ہیں۔" اور جس نتیجے کے متعلق ہم امید پرستی کی خواہش رکھتے ہیں وہ صرف اعتقاد کے زور پر ہی حاصل نہیں ہوگا، ماسوائے اس حد تک کہ اعتقاد نئے رویے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن لفظ "رویے"، کو بھی، میرے خیال میں، اس تناظر میں بعض اوقات غلط سمجھا جاتا ہے۔ میں روشنی کے بلب تبدیل کرنے اور اس کی جگہ دوہری خصوصیات کے حامل بلب خریدنے کا بڑا حامی ہوں، اور ٹپر اور میں نے اپنے گھر میں 33 شمسی پینل لگائے، اور جیوتھرمل کنوؤں کی کھدائی کرائی اور دیگر تمام کام کیے۔ لیکن جتنا اہم کام روشنی کے بلبوں کو تبدیل کرنا ہے قوانین کو تبدیل کرنا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اور جب ہم اپنی روز مرہ زندگیوں میں اپنے رویے کو تبدیل کرتے ہیں، تو ہم بعض اوقات شہریت اور جمہوریت کا جزو چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کے متعلق امید پرست ہونے کے لئے ہمیں اپنی جمہوریت میں غیر معمولی حد تک فعال ہونا پڑے گا۔ موسمی بحران کو حل کرنے کے لئے، ہمیں جمہوریت کے بحران کو حل کرنا پڑے گا۔ (تالیاں)۔ اور ہم اس وقت ایک بحران کا شکار ہیں۔
میں طویل عرصے سے یہ کہانی سنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مجھے اس کے متعلق حال ہی میں ایک خاتون نے یاد دلایا جو میری میز کے پاس سے گزر کر گئی تھیں، اور گزرتے ہوئے وہ مجھے گھورتی رہیں۔ وہ تقریبا 70 سال کی تھیں، ان کا چہرہ مہربان تھا۔ میں نے پہلے اس پر غور نہیں کیا لیکن جب میں نے کن انکھیوں سے دیکھا کہ وہ مخالف سمت سے آتے ہوئے بھی مجھے گھور رہی تھیں۔ چنانچہ، میں نے ان سے پوچھ لیا، "آپ کا کیا حال ہے؟" اور انہوں نے جواب دیا، "تمہیں پتہ ہے، اگر تم نے اپنے بال سیاہ رنگے ہوتے، تو تم بالکل الگور جیسے لگتے۔" (قہقہے)۔
کئی سال پہلے، جب میں کانگریس کا ایک نوجوان رکن تھا، میں نے کافی زیادہ وقت جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول، جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے چیلنج کو حل کرنے میں صرف کیا۔ اور فوجی تاریخ دانوں نے اس جستجو کے دوران مجھے یہ سکھایا کہ عسکری تنازعات کو عام طور پر تین زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے: مقامی جنگیں، علاقائی جنگیں یا میدانِ کارزار، اور سب سے کم لیکن انتہائی اہم عالمگیر، جنگ عظیم۔ حکمت عملی پرمبنی تنازعات۔ اور ہر سطح کے تنازعے میں مختلف طرح کے وسائل مختص کیے جاتے ہیں، ایک مختلف طریقہ، ایک مختلف تنظیمی نمونہ اپنایا جاتا ہے۔ ماحولیاتی چیلنج بھی انہی تین زمروں میں پائے جاتے ہیں، اور ہماری سوچ کے مطابق ان میں سے بیشتر مقامی ماحولیاتی مسائل ہیں: فضائی آلودگی، آبی آلودگی، خطرناک گندگی کے ڈھیر۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ علاقائی ماحولیاتی مسائل بھی موجود ہیں، جیسا کہ وسطِ غرب سے لے کر شمال مشرق، اور مغربی یورپ سے لے کر قطب شمالی اور وسط غرب سے لے کر مسی سپی سے ہو کر خلیج میکسیکو کے مردہ علاقے تک ہونے والی تیزابی بارش۔ اور اس طرح کے بیشمار مسائل ہیں۔ لیکن موسمی بحران انتہائی شاذونادر لیکن اتنا ہی اہم عالمی، یا تزویراتی تنازعہ ہے۔ اس سے ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔ اور ہمیں مناسب ردعمل کی ضرورت ہے۔ ہمیں قابلِ تجدید توانائی، تحفظ ماحول، کارکردگی کے لئے عالمی سطح پر تیاری اور کم کاربن کے اخراج والی معیشت کی جانب عالمی منتقلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس مقصد کے لئے کام کرنا ہے۔ اور ہم وسائل اور سیاسی عزم تیار کر سکتے ہیں۔ لیکن وسائل تیار کرنے کے لئے سیاسی عزم کی تیاری کی ضرورت پڑے گی۔
آئیں میں آپ کو یہ سلائیڈز دکھاؤں۔ میرا خیال تھا کہ میں علامتی نشان سے شروع کروں گا۔ یہاں جو چیز کم ہے وہ ہے قطب شمالی کا برف کا تودہ۔ گرین لینڈ تو باقی ہے۔ 28 سال پہلے قطب شمالی کا برفانی تودہ گرما کے اختتام پر دوسرے نقطہ اعتدال لیل و نہار میں یوں دکھائی دیتا تھا۔ گذشتہ خزاں کے دوران، میں نے کولوریڈو کے شہر بولڈر میں واقع سنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر کا دورہ کیا اور پھر مونٹرے میں نیول پوسٹ گریجویٹ لیبارٹری کے محققین سے بات کی۔ گذشتہ 28 سالوں میں یہ کچھ ہوچکا ہے۔ اسے تناظر میں پیش کرنے کے لئے، گزشتہ ریکارڈ 2005 کا تھا۔ گذشتہ موسم خزاں میں یہ کچھ ہوا جس نے درحقیقت محققین کے اوسان خطا کر دیے۔ رقبے کے اعتبار سے قطب شمالی کے برفانی تودے کا سائز پہلے جتنا ہے۔ بالکل وہی سائز تو نظر نہیں آتا، لیکن درحقیقت یہ امریکا جتنا سائز ہے جس میں سے اگر ریاست ایریزونا کے برابر ایک علاقہ نکال دیں تو۔ 2005 میں غائب ہونے والا رقبہ میسی سپی کے مشرق میں واقع ہر چیز جتنا تھا۔ گزشتہ خزاں میں غائب ہونے والی فاضل مقدار اس کے مساوی تھی۔ یہ سرما میں دوبارہ آجاتی ہے لیکن وہ مستقل برف نہیں ہوتی۔ بلکی برف کی پتلی تہ ہوتی ہے۔ غیر محفوظ۔ آئندہ پانچ سالوں سے بھی کم عرصے میں باقی مقدار مکمل طور پر غائب ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے گرین لینڈ پر بہت دباؤ ہے۔ پہلے ہی قطب شمالی کے حلقے میں ۔۔ یہ الاسکا کا ایک معروف گاؤں ہے۔ یہ نیو فاؤنڈ لینڈ کا ایک شہر ہے۔ ناسا کی تازہ ترین تحقیق۔ کیلیفورنیا کے سائز کے برابر معتدل سے شدید سطح کا برف کا پگھلاؤ۔
"وہ بہترین وقت تھا، وہ بدترین وقت تھا": انگریزی ادب کا مشہور ترین ابتدائیہ جملہ۔ میں مختصراً "دو سیاروں کی کہانی" سنانا چاہتا ہوں زمین اور زہرہ کا سائز تقریباً ایک ہی ہے۔ زمین کا قطر تقریباً 400 کلومیٹر طویل ہے، لیکن مجموعی سائز ایک جتنا ہی ہے۔ دونوں میں کاربن کی یکساں مقدار پائی جاتی ہے۔ لیکن فرق اتنا ہے کہ زمین پر کاربن کی مقدار کو وقت کے ساتھ ساتھ کرہ ہوائی سے باہر نکال دیا گیا ہے، جو کہ زمین میں کوئلے، تیل، قدرتی گیس وغیرہ کی شکل میں پائی جاتی ہے۔ زہرہ پر، اس میں سے بیشتر کرہ ہوائی میں موجود ہے۔ فرق یہ ہے کہ ہمارا اوسط درجہ حرارت 59 ڈگری ہے۔ زہرہ پر، یہ 855 ہے۔ یہ ہماری موجودہ حکمت عملی سے متعلقہ ہے جس میں زمین سے ہر ممکن جلد کاربن کی زیادہ سے زیادہ مقدار نکالنا اور اور استعمال کے بعد اسے کرہ ہوائی میں خارج کر دینا ہے۔ بات یہ نہیں کہ زہرہ سورج سے تھوڑا زیادہ نزدیک ہے۔ یہ عطارد سے تین گنا زیادہ گرم ہے، جو سورج کے بالکل نزدیک ہے۔ اب مختصراً یہ ایک تصویر ہے جو آپ نے واحد پرانی تصویر کے طور پر دیکھی ہے، لیکن میں اسے آپ کو دکھا رہا ہوں کیونکہ میں آپ کو سی ایس آئی دینا چاہتا ہوں: موسم۔
عالمی سائنسی برادری کا کہنا ہے کہ انسان کی تخلیق کردہ عالمی حدت آلودگی، کرہ ہوائی میں داخل ہو کر اسے کثیف کر رہی ہے جس سے باہر جانے والی گرم شعاعوں کو راستہ نہیں مل رہا۔ آپ سب کو اس کا علم ہے۔ اور آئی پی سی سی کے گذشتہ خلاصے میں، سائنسدان یہ کہنا چاہتے تھے، "آپ کو کتنا یقین ہے؟" وہ جواب دینا چاہتے تھے کہ "99 فیصد۔" چینیوں نے اس پر اعتراض کیا اور "90 فیصد سے زائد" پر سمجھوتہ طے پا گیا۔ اب ناقدین کا کہنا ہے، "اوہ، ایک منٹ رکیں ذرا، یہ تو سورج سے آنے والی اس توانائی کا فرق ہو سکتا ہے۔" اگر یہ بات سچ ہو، کرہ قائمہ بھی زیریں کرہ ہوائی کی طرح گرم ہو جائے، اگر اس میں زیادہ توانائی آ رہی ہو۔ اگر باہر نکلنے کے راستے پر زیادہ رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے تو آپ کو اسے یہاں زیادہ گرمی ہونے اور یہاں زیادہ سردی ہونے کی توقع ہونی چاہیے۔ یہ رہا زیریں کرہ ہوائی۔ یہ رہا کرہ قائمہ: سرد۔ سی ایس آئی: موسم۔
اچھی خبر یہ ہے۔ %68 امریکیوں کا اب یہ خیال ہے کہ عالمی حدت کی ذمہ داری انسانی سرگرمیوں پر عائد ہوتی ہے۔ 69 فیصد کا خیال ہے کہ زمین کی حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہے۔ اس میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن اصل چیز یہ ہے: جب سامنا کرنے والے چیلنجوں کی فہرست دی جاتی ہے تو عالمی حدت اب بھی سب سے نیچے ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے ہنگامی احساس۔ اگر آپ حقائق پر مبنی تجزیے سے تو اتفاق کرلیں لیکن آپ کو ہنگامی حالت کا احساس نہ ہو، تو پھر آپ کہاں کھڑے ہوں گے؟ موسمی تحفظ کے اتحاد کی سربراہی میرے پاس ہے اور کرنٹ ٹی وی اس میں بلامعاوضہ تعاون کر رہا ہے، اس نے اس کے فروغ کے لئے اس پر اشتہارات بنانے کے ایک عالمی مقابلے کا اہتمام کیا۔ اور فاتح یہ رہا۔
این بی سی ۔۔ میں یہاں تمام نیٹ ورک دکھاؤں گا ۔۔ این بی سی کے بڑے صحافیوں نے 2007 میں صدارتی امیدواروں سے 956 سوالات پوچھے: ان میں سے دو موسمی بحران کے متعلق تھے۔ اے بی سی: 844 سوالات، دو موسمی بحران کے متعلق تھے۔ فاکس: دو۔ سی این این: دو۔ سی بی ایس: صفر۔ ہنسی سے آنسو۔ یہ تمباکو کا ایک پرانا اشتہار ہے۔ چنانچہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں۔ یہ ان تمام ممالک میں پیٹرول کی کھپت ہے۔ اور ہم۔ لیکن یہ صرف ترقی یافتہ اقوام ہی نہیں۔ ترقی پذیر ممالک بھی اب ہماری پیروی کر رہے ہیں اور اپنی رفتار بڑھا رہے ہیں۔ اور درحقیقت رواں برس ان کے مجموعی اخراج اس مقدار کے مساوی ہیں جو ہمارے یہاں 1965 میں تھی۔ اور وہ حیران کن حد تک تیزی سے قریب آتے جا رہے ہیں۔ مجموعی ارتکاز: 2025 تک، وہ لازمی طور پر وہاں پہنچ جائیں گے جہاں ہم 1985 میں تھے۔ اگر امیر ممالک کو اس تصویر سے مکمل طور پر غائب کر دیا جائے تو ہمارے یہاں پھر بھی یہ بحران ہوگا۔ لیکن ہم نے ترقی پذیر ممالک کو وہ ٹیکنالوجیاں اور سوچ کے انداز دیے ہیں جو بحران کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ بولیویا میں ہے۔ تیس سالوں سے زیادہ۔
یہ چند سیکنڈوں میں مچھلیاں پکڑنے کے موسم کا رش ہے۔ 60 کی دہائی۔ 70 کی دہائی۔ 80 کی دہائی۔ 90 کی دہائی۔ ہمیں اسے روکنا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہم اسے حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمارے پاس ٹیکنالوجیاں موجود ہیں۔ ہمیں اسے حاصل کرنے کے لئے متحدہ سوچ اپنانی پڑے گی: دنیا میں غربت کے خلاف جدوجہد اور امیر ممالک کے اخراج کو کم کرنے کے چیلنجوں کا اب بھی ایک واحد، کافی آسان حل موجود ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے، "اس کا کیا حل ہے؟"۔ یہ رہا حل۔ کاربن کے اخراج کی قیمت لگا دیں۔ ہمیں کاربن ڈائی آکسائیڈ ٹیکس، بلا محصول، کی ضرورت ہے جو بمسارک کے تخلیق کردہ ملازمتی ٹیکس کی جگہ لے اور 19ویں صدی کے بعد بعض چیزوں میں تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔ غریب دنیا میں ہمیں موسمی بحران کے حل کے ذریعے غربت پر ردعمل کو مربوط کرنا ہے۔ اگر ہم موسمی بحران کو حل نہ کر سکے تو یوگنڈا میں غربت کے خلاف جنگ کے منصوبے لاحاصل ہیں ۔
لیکن ردعمل درحقیقت غریب ملکوں میں ایک بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے۔ یہ وہ تجویز ہے جس کے متعلق یورپ میں کافی بحث کی گئی ہے۔ یہ نیچر میگزین سے لیا گیا ہے۔ یہ قابل تجدید شمسی توانائی کے مرتکز پلانٹ یورپ کو تمام بجلی فراہم کرنے کے لئے ایک سپر گرڈ سے منسلک ہیں جو زیادہ تر ترقی پذیر ممالک سے حاصل ہوگی۔ بلند وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ۔ یہ کوئی خیالی پلاؤ نہیں ہے؛ یہ قابل حصول ہے۔
ہمیں اپنی معیشت کی بہتری کے لئے یہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرانا نمونہ کام نہیں کر رہا۔ بہت سے ایسے اچھے سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں جن سے آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر آپ تارکول کی ریت یا شیل تیل میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تو آپ کے پاس خام کاربن اثاثوں سے بھرا ہوا کاروبار ہے۔ اور یہ ایک پرانے نمونے پر مبنی ہے۔ منشیات کے عادی افراد اپنے پاؤں کی انگلیوں میں بھی رگیں تلاش کرلیتے ہیں جب ان کے بازوؤں اور ٹانگوں میں ختم ہو جاتی ہیں۔ تارکول ریت اور کوئلہ شیل کو تیار کرنا برابر ہے۔ یہ ان چند سرمایہ کاریوں میں سے ہیں جو میرے ذاتی خیال میں سمجھ میں آتی ہیں۔ میرے ان میں مفادات ہیں لہٰذا میں یہاں اظہار لاتعلقی کرتا ہوں۔ لیکن جیو تھرمل، شمسی توانائی کا ارتکاز، فوٹو وولٹیک کی اعلٰی قسم، کارکردگی اور تحفظ ماحول۔
آپ یہ سلائیڈ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں لیکن اس میں کچھ تبدیلی ہے۔ صرف دو ممالک ایسے ہیں جنہوں نے توثیق نہیں کی اور اب ایک رہ گیا ہے۔ آسٹریلیا میں انتخابات تھے۔ اور آسٹریلیا میں عوام کے اندر ہنگامی احساس پیدا کرنے کے لئے ٹیلی ویژن، ریڈیو اور انٹرنیٹ پر اشتہارات کے ذریعے ایک مہم چلائی گئی۔ اور ہم نے آسٹریلیا کے ہر گاؤں اور شہر میں سلائیڈ شو دکھانے کے لئے 250 افراد کو تربیت دی۔ اس میں دیگر بہت سی چیزوں کی شراکت بھی تھی لیکن نئے وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ان کی پہلی ترجیح کیوٹو کے متعلق آسٹریلیا کا مؤقف تبدیل کرنا ہوگا اور انہوں نے وہی کیا۔ اب ان میں کچھ شعور آیا ہے جس کی جزوی وجہ ان کو درپیش بھیانک خشک سالی ہے۔ یہ جھیل لانیئر ہے۔ میرے دوست ہائیڈی کلنز نے کہا تھا کہ اگر ہم خشک سالیوں کو بھی ایسے ہی نام دیں جیسے طوفانوں کو دیتے ہیں، تو ہم جنوب مشرق والے کو اب کٹرینہ کہیں گے اور کہیں گے کہ یہ اب اٹلانٹا کی جانب بڑھ چکا ہے۔ ہم اس قسم کے مسودے کا انتظار نہیں کر سکتے آسٹریلیا کو ہماری سیاسی ثقافت کو تبدیل کرنا پڑا۔ اچھی خبر یہ ہے۔ امریکا میں کیوٹو کی حمایت کرنے والے شہروں کی تعداد 780 ہے اور میرے خیال میں میں نے ایک اور کو اس میں شامل ہوتے دیکھا، صرف مقامی سطح پر بتانے کے لئے۔ جو کہ اچھی خبر ہے۔
اب اس بات کے اختتام پر، ہم نے چند روز پہلے انفرادی ہیرو پن کی قدر کو اتنا عام کرنے کے متعلق سنا کہ یہ بے وقعت یا روزمرہ کی چیز بن جائے۔ ہمیں ایک اور ہیرو نسل کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ریاستہائے متحدہ امریکا میں آج جو لوگ ہم میں زندہ ہیں، بلکہ باقی دنیا کے لوگوں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ تاریخ نے ہمیں انتخاب کا موقع دیا ہے ۔۔ بالکل اسی طرح جیسے جل بولتے ٹیلر اپنی زندگی بچانے کا اندازہ لگا رہی تھی جب اس کی توجہ اس حیران کن تجربے سے بھٹک گئی جس میں سے وہ گزر رہی تھی۔ ہمارے یہاں اب توجہ بھٹکانے کی ثقافت آگئی ہے۔ لیکن ہماری زمین کو ہنگامی صورت حال درپیش ہے۔ اور ہمیں، اپنی زندہ نسل میں، نسلی مشن کا احساس پیدا کرنا ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں اسے الفاظ میں بیان کرسکتا۔ یہ ایک ہیرو نسل ہی تھی جو اس دنیا میں جمہوریت لے کر آئی۔ ایک اور جس نے غلامی کا خاتمہ کیا۔ اور جس نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ مجھے یہ نہ بتائیں کہ ہم میں ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں۔ اگر ہمارے پاس اتنی رقم ہوتی جو عراق کی جنگ میں صرف ایک ہفتہ خرچ ہو رہی ہے تو ہم اس مسئلے کے حل کے قریب پہنچ چکے ہوتے۔ ہمارے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ایک حتمی نقطہ۔ میں امید پرست ہوں کیونکہ میرا اعتقاد ہے کہ ہمارے پاس عظیم چیلنج کے لمحات میں صلاحیت موجود ہے جس کے ذریعے ہم بھٹکانے کے اسباب کو ایک جانب دھکیلتے ہوئے چیلنج پر ہورا اتر سکتے ہیں جو تاریخ ہمارے سامنے رکھ رہی ہے۔ بعض اوقات میں سنتا ہوں کہ لوگ موسمی بحران کے پریشان کن حقائق کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں، "اوہ، یہ کتنا بھیانک ہے۔ ہم پر کتنا بوجھ ہے۔" میری آپ سے درخواست ہے کہ اسے دوبارہ یوں سمجھیں۔ تمام انسانی تاریخ کی کتنی نسلوں کو کسی ایسے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جو ہماری بہترین کوششوں کا متقاضی ہو؟ ایسا چیلنج جس کے لئے ہم اتنی کوششیں کریں جو ہماری استطاعت سے زیادہ ہوں؟ میرے خیال میں ہمیں اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے گہری خوشی اور تشکر کا اظہار اپنانا چاہیے کیونکہ ہم وہ نسل ہیں جس کے متعلق کوئی ہزار سال بعد موسیقی کے شوقین آرکسٹرا ساز اور شاعر اور گلوکار یہ کہتے ہوئے ہماری یاد منائیں گے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس بحران کو حل کرنے کی ذمہ داری اٹھائی اور ایک روشن اور امید پرست انسانی مستقبل کی بنیاد رکھی۔
آئیے ہم یہ کریں۔ آپ کا بہت شکریہ۔
کرس اینڈرسن: TED میں بہت سے لوگوں کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ بنیادی طور پر نمونے کا مسئلہ ۔۔ بالآخر، ووٹ دینے کے فارم پر نمونے کا مسئلہ ۔۔ ایک خراب نمونے کے مسئلے سے مراد ہے کہ آپ کی آواز نہیں سنی جا رہی جیسا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں آپ ایک ایسے منصب پر تھے جہاں آپ خوابوں کو سچ کر دکھا سکتے تھے۔ یہ دکھ کی بات ہے۔
الگور: آپ تصور نہیں کر سکتے۔ (قہقہے)۔
کرس اینڈرسن: جب آپ اس چیز پر نظر ڈالیں کہ آپ کی اپنی جماعت کے اہم امیدوار ابھی کیا کر رہے ہیں ۔۔ میرا مطلب ہے کہ ۔۔ کیا آپ کو عالمی حدت سے متعلق ان کے منصوبوں پر خوشی ہے؟
الگور: اس سوال کا جواب میرے لئے مشکل ہے کیونکہ، ایک جانب، میں سوچتا ہوں کہ ہمیں واقعی اس حقیقت کے متعلق زیادہ سوچ رکھنی چاہیے کہ ریپبلکن امیدوار ۔۔ یقینی طور پر جان مکین، اور ڈیموکریٹک جماعت کے دونوں نامزد حتمی امیدوار ۔۔ موسمی بحران کے متعلق تینوں امیدواروں میں خطرہ مول لینے کا ایک انتہائی مختلف انداز پایا جاتا ہے۔ ان تینوں میں قیادت کی صلاحیت ہے، اور ان تینوں کا اختیار کردہ طریقہ اس سے کافی مختلف ہے جو موجودہ انتظامیہ کا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ تینوں امیدوار منصوبے اور تجاویز سامنے لانے کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن مہم کا مکالمہ کہ ۔۔ جیسا کہ سوالوں سے ظاہر ہے ۔۔ اسے تحفظِ ماحول کے ووٹروں کی لیگ سامنے لائی تھی، ویسے، تمام سوالات کا تجزیہ ۔۔ اور، ویسے، مباحث کی مالی معاونت انہوں نے کی ہے جن پر ارویل کا لیبل چسپاں ہے، "صاف کوئلہ" کیا کسی نے اس پر غور کیا ہے؟ ہر مباحثے کو "صاف کوئلے" کا مالی تعاون حاصل ہے۔ "اب، پہلے سے بھی کم اخراج!"
ہماری جمہوریت میں کسی مکالمے کی ثروت اور مکمل پن نے اس دلیرانہ اقدام کی بنیاد نہیں رکھی جس کی واقعی ضرورت ہے۔ چنانچہ وہ درست باتیں کہہ رہے ہیں اور وہ ۔۔ ان میں سے جو بھی منتخب ہو ۔۔ درست کام کر سکتا ہے، لیکن میں آپ کو ایک بات بتا دوں: جب 1997 میں میں کیوٹو سے بھرپور جوش کے ساتھ واپس لوٹا کہ کہ ہم نے وہ مسئلہ حل کرلیا ہے، اور پھر امریکی سینیٹ میں کانگریس سے سامنا ہوا، تو 100 میں سے صرف ایک سینیٹر اس معاہدے کی تصدیق یا توثیق کیلئے ووٹ دینے پر تیار تھا۔ جو کچھ امیدوار کہہ رہے ہیں اسے لوگوں کی باتوں کے ساتھ رکھا جائے۔
یہ چیلنج ہماری تمام تہذیب کی بناوٹ کا جزو ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ فی الواقعی ہماری تہذیب کا خارج شدہ سانس ہے۔ اور اب ہم نے اس عمل کو میکانکی شکل دے دی۔ اس طرز کو تبدیل کرنے میں ایک وسعت، پیمانہ، تبدیلی کی رفتار درکار ہے جو اس چیز سے ماورا ہے جو ہم نے ماضی میں کیا ہے۔ چنانچہ، اسی لئے میں نے آغاز میں کہا، جو بھی آپ کرتے ہیں، اس میں امید پرست بنیں، لیکن فعال شہری بھی بنیں روشنی کے بلبوں کو تبدیل کرنے کی بجائے قوانین کی تبدیلی کا مطالبہ کریں۔ عالمی معاہدوں کو بدلیں۔ ہمیں ہی آواز بلند کرنی ہے۔ ہمیں اس جمہوریت کو حل کرنا ہے ۔۔ یہ ۔۔ ہماری جمہوریت میں گلٹی نکل آئی ہے۔ اور ہمیں ہی اس میں تبدیلی لانی ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کریں۔ انٹرنیٹ پر جائیں۔ لوگوں سے رابطہ کریں۔ انتہائی فعال شہری بن جائیں۔ قانونی مہلت لیں ۔۔ ہمیں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا کوئی پلانٹ نہیں لگانا چاہیے جب تک وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرکے اس کا ذخیرہ نہ کرسکے۔ اس سے مراد ہے کہ ہمیں انتہائی جلد یہ قابل تجدید وسائل تعمیر کرنا ہوں گے۔ اب، کوئی بھی اس پیمانے پر بات نہیں کر رہا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اب اور نومبر کے درمیان یہ ممکن ہے۔ موسم کے تحفظ کا اتحاد ایک ملگ گیر مہم چلانے والا ہے ۔۔ نچلی سطح کی تحریک، ٹی وی اشتہار، انٹرنیٹ اشتہار، ریڈیو، اخبارات ۔۔ ہر کسی کے ساتھ شراکت کے ذریعے جن میں گرل اسکاؤٹس سے لے کر ماہی گیر تک شامل ہیں۔
ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔
کرس اینڈرسن: اپنی ذاتی سطح پر الگور کیا آپ کچھ مزید کرنا چاہیں گے؟
الگور: میری دعا ہے کہ میں اس سوال کا جواب تلاش کر لوں۔ میں کیا کر سکتا ہوں؟ بک منسٹر فلر نے ایک بار لکھا تھا، "اگر تمام انسانی تہذیب کے مستقبل کا دارومدار مجھ پر ہوتا، تو میں کیا کرتا؟ تو میں کیا کر سکوں گا؟" اس کا انحصار ہم سب پر ہے، لیکن دوبارہ، صرف روشنی کے بلبوں سے نہیں۔ ہم، ہم میں سے بیشتر یہاں موجود، امریکی ہیں۔ ہمارے پاس جمہوریت ہے۔ ہم چیزوں کو بدل سکتے ہیں، لیکن ہمیں فعال انداز سے تبدیل کرنا ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے شعور کی بلند سطح۔ اور یہ مشکل ہے۔۔ یہ قائم کرنا مشکل ہے ۔۔ لیکن یہ ہوجائے گی۔ ایک پرانا افریقی محاورہ ہے جو آپ میں سے بعض کو پتا ہوگا وہ کہتا ہے، "اگر تم جلدی جانا چاہتے ہو تو تنہا جاؤ؛ اگر تم دور جانا چاہتے ہو، اکٹھے جاؤ۔" ہمیں جلدی دور جانا ہے۔ چنانچہ ہمیں شعور میں تبدیلی لانی ہے۔ وابستگی میں تبدیلی۔ ہنگامی ضرورت کا نیا احساس۔ اس استحقاق کا ایک نیا ادراک کہ ہمیں اس چیلنج سے عہدہ برآ ہونا ہے۔
You can share this video by copying this HTML to your clipboard and pasting into your blog or web page. This video will play with subtitles.
You either have JavaScript turned off or have an old version of the Adobe Flash Player. To view this rating widget you
need to get the latest Flash player.
If your browser allows only "trusted sites" to execute Javascript, you should add the "googleapis.com" domain to your whitelist to allow our Flash detection to work properly.
Got an idea, question, or debate inspired by this talk? Start a TED Conversation.
اس جدید ترین سلائڈ شو میں جسے پہلی بار TED.com پر پیش کیا جا رہا ہے، الگور نے اس بات سے متعلق شواہد پیش کئے ہیں کہ موسم کی تبدیلی کی رفتار حال میں کی گئی سائنسدانوں کے ذریعہ پیشین گوئی سے بھی بد ترین ہو سکتی ہے۔
Once the US Vice President, then star of An Inconvenient Truth, now Nobel Peace Prize winner, Al Gore found a way to focus the world's attention on climate change. In doing so, he has invented a new medium -- the Keynote movie -- and reinvented himself. Full bio »
17:52 Posted: May 2007
Views 342,711 | Comments 150
15:58 Posted: Nov 2007
Views 528,111 | Comments 235
17:34 Posted: Apr 2007
Views 538,740 | Comments 94
Just follow the guidelines outlined under our Creative Commons license.
This comment will be attributed to . Not ? Sign Out.