Return to the talk Return to talk

Transcript

Select language

Translated by Fahad Zaki
Reviewed by Zehra Wamiq

0:11 میری پیدائش اور پرورش سیرالیون میں ہوئی، ایک چھوٹے اور خوبصورت ملک میں جو مغربی افریقہ میں واقع ہے، ایک ملک جو کہ انسانی وسائل اور تخلیقی ہنر سے مالامال ہے-

0:25 مگر، سیرالیون بدنام ہے 90 کی دہائی میں ہونے والی دس سالہ خانہ جنگی کی وجہ سے جس میں پورے پورے گاؤں جلادیے گۓ- اس دوران، ایک اندازے کے مطابق 8000 مرد، عورتیں اور بچوں کے بازوؤں اور پیروں کو کاٹ دیا گیا- جب میں اور میرے گھر والے جان بچا کر بھاگے ان حملوں سے،اسوقت میں 12 سال کے لگ بھگ تھا، میں نے تہیہ کیا کہ جو کچھ میں کرسکتا ہوں وہ کرونگا اس بات کو یقینی بنانے کے لیئےکہ میرے اپنے بچے اس تجربے سے نہ کبھی گزریں جس سے ہم گزرے ہیں- وہ، درحقیقت، اس سیرا لیون کا حصہ بنیں گے جہاں جنگ اور اعضاء کاٹنا طاقت حاصل کرنے کی حکمت عملی میں شامل نہیں ہوگی-

1:05 جب میں نے ان لوگوں کو جنہیں میں جانتا تھا، جن سے محبت کرتا تھا، اس تباہی سےبحال ہوتے دیکھا، ایک چیز جس نے مجھے بڑا پریشان کیا، وہ یہ تھی کہ اس ملک میں بہت سارے اپاہج لوگ تھے، جو اپنے مصنوعی اعضاء استعمال نہیں کرتے تھے- اس کی وجہ جو مجھے معلوم ہوئی، وہ یہ تھی کہ ان کے مصنوعی اعضاء کے ساکٹ تکلیف دہ تھے کیونکہ وہ صحیح طرح جڑتے نہیں تھے- مصنوعی اعضاء کے ساکٹ وہ حصہ ہیں جس میں اپاہج لوگ، اپنے بچے ہوئے اعضاء کو ڈالتے ہیں، اور جو مصنوعی اعضاء کے ٹخنے سے جڑتا ہے- ترقی یافتہ ممالک میں بھی، تین ہفتے سے لیکر اکثر کئی سال تک لگ جاتے ہیں ایک مریض کو ایک آرامدہ ساکٹ ملنے میں، اگر ملے بھی تو- مصنوعی اعضاء بنانے والے ابھی بھی روایتی طریقے استعمال کرتے ہیں جیسے سانچے بنانا اور اسمیں ڈھالنا ایک واحد مادے سے مصنوعی اعضاء کے خانے بنانے کے لیئے- ایسے ساکٹ اکثر ناقابل برداشت دباؤ ڈالتے ہیں مریض کے اعضاء پر، جس سے ان کو چھالوں اور زخم کا سامنا کرنا پڑتا ہے- یہ اہم نہیں ہے کہ آپ کا مصنوعی اعضاء کا ٹخنہ کتنا طاقتور ہے- اگر آپ کا متبادل مددگار اعضاء کا ساکٹ تکلیف دہ ہے، تو آپ اپنی مصنوعی ٹانگ استعمال نہیں کرینگے، اور یہ اس دور میں بالکل ناقابل قبول ہے-

2:18 پھر ایک دن میں پروفیسر 'ہیو ہر' سے ملا، تقریباً ڈھائی سال پہلے، اور انہوں نے پوچھا کہ اگر مجھے اس مسئلے کا حل معلوم ہے، میں نے کہا، " نہیں، ابھی نہیں، مگر میں چاہوں گا کہ اس کا حل تلاش کروں-" اور پھر، ایم آئی ٹی میڈیا لیب میں، اپنی پی ایچ ڈی کے لئے، میں اپنی مرضی کے مطابق مصنوعی ساکٹ تیار کیئے تیزی سے اور کم لاگت میں جو زیادہ آرامدہ ہیں روایتی متبادل مددگار اعضاء کے مقابلے میں- میں نے ایم- آر- آئی سے مریض کے جسم کی اصل ساخت معلوم کی، پھر فینیٹ ایلیمنٹ موڈلنگ کو استعمال کیا تاکہ اندرونی دباؤ اور کھنچاؤ کا اندازہ لگاؤں جو عام قوتوں پر ہوتی ہے، اور پھر ایک مصنوعی اعضا کا ساکٹ بنایا . ہم 'تھری ڈی' پرنٹر استعمال کرتے ہیں ایک سے زیاده مٹیریل سے بنے ایک مصنوعی اعضاء کو بنانے میں جو مریض کے جسم پر دباؤ کو کم کرتا ہے جہاں ضرورت پڑتی ہے- مختصر یہ کہ ہم ڈیٹا استعمال کررہے ہیں تاکہ معیاری اور سستے ساکٹ جلدی بناسکیں- ابھی کچھ دنوں پہلے، ایک تجربے میں، میڈیا لیب میں، ہمارے ایک مریض نے، جو امریکی فوجی ہیں جو 20 سال سے اپاہج شخص ہیں اور جنہوں نے درجنوں مصنوعی ٹانگیں استعمال کی ہیں، انہوں نے ہمارے پرنٹ کیے ہوئے اعضاء کے بارے میں کہا، "یہ بہت نرم ہیں، جیسے تکیے پر چل رہے ہوں، اور یہ بہت خوبصورت ہیں-" (ہنسی)

3:47 ہمارے دور میں معذوری کو کسی شخص کو روکنا نہیں چاہیے ایک بامقصد زندگی گزار نے سے- میری امید اور خواہش یہ ہے کہ وہ اوزار اور طریقے جو ہم بناتے ہیں اپنے ریسرچ گروپ میں، ان کو استعمال کرکے بہت ہی کارآمد متبادل مددگار اعضاء ان لوگوں تک پہنچائیں جن کو ان کی ضرورت ہو- میرے لیے، وہ جگہ، جہاں روح کے زخم بھرنا شروع ہوں ، جنگ اور بیماری سے متاثر ہونے والوں کے وہ جگہ ہے جہاں آرامدہ اور سستے ساکٹ بناۓ جاسکیں ان کے جسموں کے لئے- چاہے وو سیرالیون میں ہو یا بوسٹن میں، میں امید کرتا ہوں کہ یہ نہ صرف ان کی انسانی صلاحیت کے احساس کوبحال کرے، بلکہ ان کو بہتری میں تبدیل بھی کریں-

4:30 بہت بہت شکریہ-

4:33 (تالیاں)